کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5610
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيُعْظِمْ رَغْبَتَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ أَعْطَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ قبولیت کی امید کے ساتھ دعا کرے اور رحمت سے مایوسی کوقریب تک نہ پھٹکنے دے، کیونکہ وہ ایسے رب کو پکار رہاہے، جو کریم ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے شریر مخلوق ابلیس کی بھی دعا قبول کر لی تھی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ} … اس نے کہا: مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔ (اعراف: ۱۴، ۱۵)
حدیث نمبر: 5611
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5612
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 5613
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 5614
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يُعَجِّلْ فَيَقُولَ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کا کام ہے کہ امید اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جلدی قبول کرے یا بدیر اور یہ بھی ممکن ہے کہ بندے کی اس التجاء کو پورا نہ کرے لیکن اس کے عوض اس کو کوئی اورخیر عطا کر دے۔
حدیث نمبر: 5615
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُبَايِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔
وضاحت:
فوائد: … دعا کے سلسلے میں قافیہ بندی سے اجتناب کرنا چاہیے، وگرنہ توجہ بٹ جائے گی اور خشوع و خضوع میں فرق آ جائے گا۔ لیکن بعض احادیث میں اس قسم کے ہم وزن جملے ملتے ہیں، جیسے: اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الحِسَابِ، اِھْزِمِ الْأَحْزَابِ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، صَدَقَ وَعْدَہُ، وَ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملے اتفاقی طور پر ہم وزن ہو گئے ہیں، ان کے لیے کوئی تکلف نہیں کیا گیا۔