کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5594
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا قَالَ رَوْحٌ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ عَنْ أُمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن علقمہ اپنے چچے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے۔ عبید اللہ راوی وہ جگہ بھول گئے تھے، ابن بکر راوی نے عبد الرحمن کے چچا کی بجائے اس کی ماں کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5595
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے، عبید اللہ اس جگہ کو بھول گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب امر ہے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر)عرفہ میں موقف کے پاس آئے اور قبلہ رخ ہو کر غروبِ آفتاب تک دعا کرتے رہے۔ (صحیح مسلم: ۲۱۳۷)
حدیث نمبر: 5596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّ يَدَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اس قدر دراز کیے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، سلیمان راوی نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے لیے دعا مانگ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5597
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ ثَنْدُوَتَيْهِ وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ مقام پر کھڑے اس طرح دعا کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو سینے کے برابر اٹھا رکھا تھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف کیا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 5598
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَبَاطِنَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا کرتے توہتھیلیوں کی پشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف ہوتی اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَسْأَلُوْہُ بِبُطُوْنِ أَکُفِّکُمْ وَلَا تَسْأَلُوْہُ بِظُھُوْرِھَا۔)) … جب تم (ہاتھ اٹھا کر) اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو سیدھے ہاتھوں سے سوال کیا کرو، نہ کہ الٹے ہاتھوں سے۔ (ابوداود: ۱۴۸۶،صحیحہ:۵۹۵)
حدیث نمبر: 5599
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، ما سوائے بارش مانگنے کے، اس موقع پر تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر ہاتھوں کو بلند کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … بارش کی دعا کے علاوہ دیگر مقامات پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کا سوال کرتے وقت جس مبالغہ کے ساتھ ہاتھ بلند کرتے تھے، باقی موقعوں پر اس طرح نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5600
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَأَلَ جَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ إِلَيْهِ وَفِي لَفْظٍ إِلَى وَجْهِهِ وَإِذَا اسْتَعَاذَ جَعَلَ ظَاهِرَهُمَا إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خلاد بن سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سوال کرتے تھے تو اپنی ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرے کی طرف کرتے اور جب پناہ مانگتے تھے تو ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5601
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ فَسَقَطَ خِطَامُهَا قَالَ فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفات کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اونٹنی کے ایک طرف جھکنے کی وجہ سے اس کی لگام گر گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ سے لگام کو پکڑا، جبکہ دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رکھا۔
حدیث نمبر: 5602
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَّا يَضَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِشَارَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے سابق احادیث سے یہ امور ثابت ہو چکے ہیں۔ شہادت کے وقت انگلی اٹھانا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 5603
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِسُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی دعا کرنا شروع کرتے، اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ (پاک ہے میرا ربّ، جو بلند و بالاہے، بلند رتبہ ہے اور عطا کرنے والا ہے)۔
حدیث نمبر: 5604
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کی روایات ضعیف ہیں، ایک حدیث مذکورہ بالا ہے، جس کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں: مزید روایات درج ذیل ہیں۔