کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 5580
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے کلمات کی تعلیم دوں کہ جب تو ان کو ادا کرے تو تجھے بخش دیا جائے گا، حالانکہ تجھے پہلے ہی بخشا جا چکا ہے، بہرحال وہ کلمات یہ ہیں: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ بردبار اور کریم ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بلند و بالا اور عظیم ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے، جو کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا ربّ ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو کہ تمام جہانوں کا ربّ ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے کہ ان کی بخشش ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1363»
حدیث نمبر: 5581
عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اپنی مکاتَبت سے عاجز آ گیا ہوں، لہذا آپ میری مدد کرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ان کلمات کی تعلیم دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے، اگر تجھ پر صیر پہاڑ کے بقدر دیناروں کا بھی قرض ہوا تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے ادا کر دے گا، اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ (اے اللہ! تو مجھے کافی ہو جا، اپنے حلال کے ساتھ، اپنے حرام سے بچا کر اور اپنے فضل سے مجھے ان افراد سے غنی کر دے، جو تیرے علاوہ ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1319»