کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی¤اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 5556
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ وَحِينَ يَطْعَمُ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندہ گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: نہ تم اس گھر میں رات گزار سکتے ہو اور نہ شام کا کھانا ملے گا، لیکن اگر آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے تو وہ شیطان کہتا ہے: تم نے اس گھر میں رات گزارنے کو پا لیا ہے، پھر اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنا بھی پا لیا ہے اور شام کا کھانا بھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … گھر کے تمام افراد کو گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ شیطان کی نحوستوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14788»
حدیث نمبر: 5557
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، … … أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ ہم پھسل جائیں، یا گمراہ ہو جائیں، یا ظلم کریں، یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت والا کام کروں یا ہم پر جہالت مسلط کر دی جائے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5557
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 5094، والترمذي: 3427، والنسائي: 8/285، وابن ماجه: 3884، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27151»
حدیث نمبر: 5558
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ بِسْمِ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کی پناہ لی، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5558
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه صالح بن كيسان، أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة : 491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 471»
حدیث نمبر: 5559
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق ، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے )، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اس کی دس لاکھ برائیاں معاف کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یوں ہیں: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ۔ سبحان اللہ! اتنا بڑا اجر و ثواب، در حقیقت اللہ تعالیٰ لامتناہی خزانوں کا مالک ہے اور اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرتا ہے، اجر و ثواب کی اس مقدار کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بازار ایسی جگہ ہے، جہاں لوگ تجارت، خرید و فروخت اور زیادہ منافع کے حصول اور خسارے سے بچاؤ کے حیلوں میںمصروف ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں، نیز بازاروں کو سب سے برا خطۂ زمین قرار دیا گیا ہے، لیکن جو آدمی ان امور کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر کو یاد رکھے گا، وہ بڑا اجرو ثواب پائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 2235، والترمذي: 3428، 3429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 327»
حدیث نمبر: 5560
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالس کا کفارہ ہے کہ بندہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیسری حمد کے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔
وضاحت:
فوائد: … ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ جَلَسَ فِی مَجْلِسٍ فَکَثُرَ فِیہِ لَغَطُہُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ یَقُومَ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ إِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ فِی مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ۔)) … جو آدمی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے، جس میں بہت زیادہ شور و غل اور لغو باتیں ہوتی ہیں، پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ تو اس کے اس مجلس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4858، والترمذي: 3433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8804»