کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان دعاؤں کا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
حدیث نمبر: 5548
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَقُولُهُنَّ عِنْدَ النَّوْمِ مِنَ الْفَزَعِ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ أَنْ يَقُولَهَا عِنْدَ نَوْمِهِ وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ أَنْ يَحْفَظَهَا كَتَبَهَا لَهُ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نیند کے وقت گھبرا جانے کی صورت میں یہ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ … … وَأَنْ یَحْضُرُونِ(اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں)۔ سیدنا عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہ اپنے بالغ بچوںکو اس دعا کی تعلیم دیتے تھے، تاکہ وہ سوتے وقت اس کو پڑھیں اور جو بچے چھوٹے اور اس دعا کو یاد کرنے سے ناسمجھ ہوتے تھے، تو وہ اس دعا کو لکھ کر اس کی گردن میں لٹکا دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا اس دعا کو لکھ کر بچیوں کے گلوں میں ڈال دینا، یہ ضعیف ہے، اس لیے اس سے گلے وغیرہ میں تعویذ لٹکانے کے جواز پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن دون قوله: فكان عبد الله ۔ قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3893، والترمذي: 3528، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6696»