حدیث نمبر: 5532
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنا پہلو بسترپر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ(اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔
حدیث نمبر: 5533
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ(اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے ربّ! زمین کے ربّ! ہر چیز کے ربّ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس شریر کے شرّسے کہ تو جس کی پیشانی پکڑنے والا ہے، تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو آخِر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، تو میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے)۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں درج ذیل آیت کی بہترین تفسیر بیان کی گئی ہے:
حدیث نمبر: 5534
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بستر پر آ کر تین بار یہ دعا پڑھی: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ (میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر وہی، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں) تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں اور اگرچہ وہ (شام کی) عالج جگہ کی ریت کے برابر ہوں، بلکہ اگرچہ وہ درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔
حدیث نمبر: 5535
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا وَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کفایت کیا اور ہمیں جگہ دی، پس کتنے ہی لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے والا اور ان کو جگہ دینے والا کوئی نہیں)۔
وضاحت:
فوائد: … ہمیں کفایت کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موذِی چیزوں کا شرّ دور کیا اور حاجات و ضروریات پوری کیں، وگرنہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے آسرا چھوڑ دیا، نہ ان کو شرّ سے بچایا، نہ ان کی جان کو تحفظ دیا، نہ ان کے مال کی حفاظت کی، کئی لوگوں پر ان کے دشمن غالب آ کر ان کو تکلیف دے رہے ہیں، کئی لوگوںکے پاس گھر اور مکمل لباس نہیں ہیں اور کتنے ہی افراد ایسے ہیں کہ ان کے پاس خوردو نوش کی چیزیں نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 5536
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ(اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی تین سندیں بھی اسی حدیث کی ہیں، ان کا بغور مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر: 5537
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ بِلَفْظِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ … ، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔
حدیث نمبر: 5538
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ وَقَالَ اجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغْتُ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ وَبِرَسُولِكَ قَالَ لَا وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سابقہ سند کے ساتھ سابق روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ یوں ہیں: پس تو نماز والا وضو کر، … اس دعا کو آخر میںپڑھ (یعنی اس کے بعد چپ ہو کر سو جا)۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی، جب میں بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَکے لفظ تک پہنچا تو میں نے کہا: وَبِرَسُولِکَ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ الفاظ ہیں: وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا اور اگر صبح تک بقید ِ حیات رہا تو بہت زیادہ بھلائی پائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں یہ دعا پڑھنی چاہیے، اس کے بعد سونے والا خاموش ہو جائے، یہاں تک کہ سو جائے۔
حدیث نمبر: 5539
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اضْطَجَعَ الرَّجُلُ فَتَوَسَّدَ يَمِينَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ أَوْ بُوِّئَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی سوئے تو اپنے دائیں ہاتھ کو سر کے نیچے رکھے اور پھر یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی … ۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: اگر وہ اسی رات فوت ہو گیا تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 5540
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے اللہ! اس دن میں اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندے کو اٹھائے گا)۔
حدیث نمبر: 5541
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَجِدُ وَحْشَةً قَالَ إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ فَإِنَّهُ لَا يُضَرُّ وَبِالْحَرِيِّ أَنْ لَا يَقْرَبَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں وحشت محسوس کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھا کر: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ۔(میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) تو پھر شیطان تجھے نقصان نہیں دے گا، بلکہ بہت لائق ہے کہ وہ تیرے قریب ہی نہ آئے۔
حدیث نمبر: 5542
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قِرْطَاسًا وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبد الرحمن حبلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے ایک کاغذ نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی یہ گواہی دیتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے، اور میں تیرے پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس دعا کی تعلیم دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سونا چاہے تو اس وقت یہ دعا پڑھا کرے۔
حدیث نمبر: 5543
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَرَجَعَتْ قَالَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ مَكَانَكُمَا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے نشانات کا شکوہ کیا، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی آئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر پر موجود نہیں تھے، اس لیے لوٹ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے، جبکہ ہم لیٹ چکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اٹھنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ، جب تم سونے لگو، تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ بے تکلفی ہے، دراصل الفت سے تکلف ختم ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5544
عَنْهُ أَيْضًا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتُحَمِّدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ الخ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث بھی ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ، دس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو، اور جب اپنے بستروںپر آ جاؤ تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، … ۔
حدیث نمبر: 5545
عَنِ ابْنِ أَعْبُدٍ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَكَانَتْ زَوْجَتِي فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدَيْهَا وَأَسْقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتِ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضَرَرٌ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ أَوْ خَدَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا أَوْ خُدَّامًا وَلَمْ تَسْأَلْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ سَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا وَقَالَتْ رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن اعبد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات بتلاؤں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال میں سے سب سے زیادہ معزز تھیں اور وہی میری بیوی بھی تھیں، انھوں نے اس قدر چکی چلائی کہ اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، انھوں نے مشکیزے کے ذریعے اتنا پانی لایا کہ ان کے گلے میں نشان پڑ گیا اور انھوں نے گھر میں جھاڑو دیا، یہاں تک کہ ان کے کپڑے خاک آلود ہو گئے، انھوں نے ہنڈیا کے نیچے اس قدر آگ جلائی کہ ان کے کپڑے میلے ہو گئے، ان کاموں سے ان کو تکلیف ہوئی، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی یا لونڈیاں لائی گئیں، میں نے سیدہ سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ایک غلام کا سوال کرو، جو تمہیں کام کی اس مشقت سے بچائے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غلام پائے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کر سکیں، … ۔ پھر حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے حق میں غلام سے بہتر ہے، جب اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اس نے پردے سے اپنا سر نکالا اور دو بار کہا: میں اللہ اور رسول سے راضی ہوں۔
حدیث نمبر: 5546
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، … اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ(اے اللہ! بیشک تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو نے ہی اس کو فوت کرنا ہے، اس کا مرنا اور جینا تیرے لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کرنا اور اگر اس کو موت دے دے تو اس کو بخش دینا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں)۔
وضاحت:
فوائد: … آدمی نے ان کو کہا: کیا آپ نے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 5547
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ وَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانِیْ وَآوَانِیْ … … اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو مجھے کافی ہوا، مجھے جگہ دی، مجھے کھلایا ، مجھے پلایا، جس نے مجھ پر احسان کیا اور مجھ پر مہربان ہوا اور جس نے مجھے عطا کیا اور خوب دیا، ہر حال پر ساری تعریف اللہ کیلئے ہے، اے اللہ! تو ہر چیز کا ربّ، ہر چیز کا بادشاہ ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، ہر چیز تیرے لیے ہے، میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں)۔