کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 5512
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سو جاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25414»
حدیث نمبر: 5513
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی بو یا چکناہٹ ہو اور پھر اس وجہ سے وہ کسی تکلیف میںمبتلا ہو جائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … کھانے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے، بالخصوص سونے سے پہلے، چکنائی کی بو پا کر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے اور یہ کھانا خراب ہو کر کسی بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں اور منہ بھی صاف کر لینا چاہیے، جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، اسلام ہر حالت میں نظافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5513
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3852، والترمذي: 3297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10953»
حدیث نمبر: 5514
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت گھروں میں آگ نہ چھوڑا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5514
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6293، ومسلم: 2015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5028»
حدیث نمبر: 5515
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيتَنَّ النَّارُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّهَا عَدُوٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ ہر گز تمہارے گھروں میں رات نہ گزارنے پائے، کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آگ میں لوگوںکے لیے بڑے فائدے ہیں، لیکن دشمن کی طرح اس کے ضرر سے کبھی بھی امن میں نہیں رہا جا سکتا، اس نے کئی لوگوں کو جلایا، گھروں کو جلایا اور گھروں کے ساز و سامان کو جلایا، لہذا سوتے وقت گھر کے اندر آگ کے وجود کو ختم کر کے سونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5515
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوعوانه: 5/335، والحاكم: 4/284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5396»
حدیث نمبر: 5516
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجِيفُوا أَبْوَابَكُمْ وَأَكْفِئُوا آنِيَتَكُمْ وَأَوْكِئُوا أَسْقِيَتَكُمْ وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يُؤْذَنَ لَهُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کا نام لے کر) دروازے بند کر دیا کرو، برتنوں کو الٹا کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطانوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دیواروں کو پھلانگ کر تمہارے گھروں میںگھس آ ئیں۔
وضاحت:
فوائد: … بسم اللہ پڑھ کر گھروں کے دروازے بند کیے جائیں، دیکھیں حدیث نمبر (۵۵۶۸)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5516
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22620»
حدیث نمبر: 5517
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6294، ومسلم: 2016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19800»
حدیث نمبر: 5518
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دروازوں کو بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازے کو کھولتا ہے، نہ مشکیزے کی ڈوری کو کھولتا ہے، نہ برتن کا ڈھکن ہٹاتا ہے اور آگ کی وجہ سے فاسق جانور یعنی چوہیا گھروالوں پر آگ لگا دیتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ہے: اگر برتن ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کوئی لکڑی اس کے اوپر رکھ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5518
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3280، ومسلم: 2012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15212»