حدیث نمبر: 5486
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي مِنَ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صبح کے وقت، شام کے وقت اور رات کو بستر پر سوتے وقت یہ کلمات ادا کروں: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ … … وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے، اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے لیے مخفی یا ظاہر ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے کائنات کی کوئی چیز غائب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5487
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا فَإِذَا فِيهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَكْرٍ قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو راشد حبرانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: جو حدیث تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، وہ مجھے بیان کرو، انھوں نے میرے سامنے ایک صحیفہ رکھا اور کہا: یہ وہ چیز ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی، جب میں نے اس میں دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں، جو میں صبح اور شام کو پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی سُوئً أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے‘ شیطان کے شر اور اس کے شرک سے‘ اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔
حدیث نمبر: 5488
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر کے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ تواس کو چارگردنیں آزاد کرنے کے بقدر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے، شام تک یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے محافظ ثابت ہوں گے، اگر وہ مغرب کے بعد دس بار کہے گا تو پھر اسی طرح کی فضیلت حاصل ہو گی۔
حدیث نمبر: 5489
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ فَقَالَ لِي يَا أَبَا أَيُّوبَ أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ مُحَرَّرِينَ وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ وَاللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ میرے پاس ٹھہرے اور مجھ سے فرمایا: اے ابو ایوب! کیا میں تجھے کسی چیز کی تعلیم دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی صبح کے وقت یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے، اس کی دس برائیاں معاف کر دیتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے ہاں دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اور وہ شام تک شیطان سے بچاؤ میں رہتا ہے، اور جو آدمی شام کو یہ کلمات ادا کرے گا، اس کو بھی یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ابو الورد کہتے ہیں: میں نے ابو محمد سے کہا: تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5490
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت دس بار یہ کلمات ادا کیے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بار ادائیگی کے عوض دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کرے گا، اس کے دس درجے بلند کرے گا، اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور یہ کلمات دن کے شروع سے آخر تک اس کی حفاظت کرنے کے لیے اسلحہ اور حفاظت ثابت ہوں گے اور اس دن کسی شخص کا عمل اس کے اس عمل پر غالب نہیں آ سکے گا، اگر وہ شام کو یہ عمل کرے گا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔
حدیث نمبر: 5491
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت دس بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، جس نے شام کو یہ کلمات ادا کیے، اس کو بھی یہی فضیلت حاصل ہو گی۔
حدیث نمبر: 5492
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ أَصْبَحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا أَمْسَى مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عیاش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور وہ شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اگر اس نے شام کو یہی عمل کیا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک آدمی نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو عیاش آپ سے اس قسم کی حدیث بیان کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو عیاش نے سچ کہا ہے۔
حدیث نمبر: 5493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا فَكَانُوا يَقُولُونَهَا فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی شام کو یہ دعا تین بار پڑھے گا: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ (میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کی شرّ سے) تو اس رات کو کوئی زہر اس کونقصان نہیں دے گا۔ راوی کہتے ہیں: ہمارے اہل و عیال نے اس دعا کی تعلیم حاصل کی اور پھر وہ اس کو پڑھا کرتے تھے، ایک دفعہ ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس دیا، لیکن اس کو اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی زہر نقصان نہیں دے گا، اس کی دو صورتیں ہیں: (۱) کوئی زہریلا جانور اس کو ڈس نہیں سکے گا، (۲) ڈس تو سکتا ہے، لیکن اس کی تکلیف نہیں ہو گی، اس حدیث کے آخر سے دوسرا معنی ثابت ہو رہا ہے کہ بچی کوڈنگ تو لگا تھا، لیکن اس کو تکلیف نہیں ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 5494
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ لَمَّا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کے ایک آدمی نے کہا: جب میں گزشتہ رات کو سویا تو بچھو نے مجھے ڈسا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو شام کو أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَکہتا تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔
حدیث نمبر: 5495
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ قَالَ سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِذَا لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو صالح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم کا آدمی بیان کرتا ہے کہ اس کو ڈسا گیا، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے شام کو یہ دعا پڑھی ہوتی أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، تو وہ تجھے نقصان نہ دے سکتا۔ سہیل کہتے ہیں: جب ہم میں سے کوئی ڈسا جاتا تو میرے ابو اس سے پوچھتے: کیا وہ دعا پڑھی تھی؟اگر وہ ہاں میں جواب دیتا تو یوں لگتا کہ میرے ابو کا یہ خیال ہوتا کہ یہ اس کو نقصان نہیں دے گا۔
حدیث نمبر: 5496
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ حِينَ يُمْسِي اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح یا شام کو یہ ذکر کیا: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی … … لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! تو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں‘ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں‘ پس تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا) ، پھر وہ اسی دن یا رات کو فوت ہو گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 5497
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ مَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناشداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سید الاستغفار یہ ہے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی، … … فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوب إِلَّا أَنْتَ،(اے اللہ! تو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں‘ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں‘ پس تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)۔ جو آدمی یقین کے ساتھ صبح کو یہ دعا پڑھے گا اور پھر اسی دن وفات پائے گا تو وہ جنتی لوگوں میں سے ہوگا، اور جو آدمی یقین کے ساتھ شام کو یہ دعا پڑھے گا اور پھر اسی رات کو فوت ہو جائے گا تو وہ جنتی لوگوں میں سے ہو گا۔
حدیث نمبر: 5498
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبِحُ وَفِي لَفْظٍ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد ِ حمص میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، لوگوں نے کہا: اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ہے، پس یہ سن کر میں اٹھا اور اس سے سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو اور تیرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی صبح کو اور شام کو تین بار یہ ذکر کرتا ہے: رَضِیتُ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، (میں اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نبی ہونے پر راضی ہوں ) تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو روزِ قیامت راضی کرے۔
حدیث نمبر: 5499
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبَحَ وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں تھوڑی سی تفصیل یوں ہے: تین بار صبح کے وقت کہے اور تین بار شام کے وقت
حدیث نمبر: 5500
عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے: أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْإِسْلَامِ، وَعَلٰی کَلِمَۃِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَی دِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وَعَلٰی مِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ۔ (ہم نے صبح کی ہے فطرتِ اسلام پر، کلمۂ اخلاص پر، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر، اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے)۔
وضاحت:
فوائد: … فطرت ِ اسلام سے مراد دینِ اسلام ہے، کلمۂ اخلاص سے مراد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔ حنیف (یکسو) اس مسلمان کو کہتے ہیں جو تمام دوسرے ادیان سے بے رخی اختیار کر کے دینِ حق کی طرف مائل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5501
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِذَا أَمْسَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ مِنَ الْمُشْرِکِیْن کے بعد یہ الفاظ بھی روایت کیے ہیں: اور جب ہم شام کرتے تو اسی طرح کہتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صبح کے وقت دعا ء کے شروع میں اَصْبَحْنَا اور شام کے وقت اَمْسَیْنَا کہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 5502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَارَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن قاسم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پڑوسن نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طلوع فجر کے وقت یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتی تھی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی َٔعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔(اے اللہ! میں قبر کے عذاب اور قبر کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔
حدیث نمبر: 5503
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى اللَّيْلِ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاء ِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے)، جس نے صبح کے وقت یہ دعا تین بار پڑھی تو ان شاء اللہ رات تک اس کو اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی، اسی طرح جس نے شام کو یہ عمل کیا تو صبح تک ان شاء اللہ اس کو کوئی اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی۔
حدیث نمبر: 5504
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے: أَمْسَیْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ(ہم نے شام کی اور اللہ تعالیٰ کے ملک نے شام کی، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر وہی، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں)۔
حدیث نمبر: 5505
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ(اے اللہ! ہم نے تیری توفیق سے صبح کی، تیری توفیق سے شام کی، تیری توفیق سے زندہ ہیں، تیری توفیق سے مریں گے اور تیری طرف لوٹنا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … أبوداود اور ترمذی کی روایت میں یہ زائد بات بھی ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کرتے تو یہ دعا اس طرح پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ النُّشُوْرُ۔
حدیث نمبر: 5506
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي قَالَ يَعْنِي الْخَسْفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَأَہْلِی وَمَالِی، اللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَوْعَاتِی، اللّٰہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی وَمِنْ فَوْقِی، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی(اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں‘ اے اللہ! میں اپنی دین ودنیا میں اور اہل و مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں‘ اے اللہ! میرے پردے والی چیزوں پر پردہ ڈال اور مجھے گھبراہٹوں سے امن میں رکھ‘ اے اللہ! میرے سامنے‘ میرے پیچھے‘ میرے دائیں‘ میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر‘ اور اس بات سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں)۔ راوی کہتے ہیں کہ نیچے سے ہلاک ہونے سے مراد زمین میں دھنسنا ہے۔
حدیث نمبر: 5507
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے صبح اور شام کے وقت یہ کلمات سو (۱۰۰) بار ادا کیے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، تو قیامت کے دن کوئی آدمی اس کے عمل سے افضل عمل نہیں لائے گا، ما سوائے اس شخص کے، جس نے اتنی بار یہ ذکر کیا ہو گا، یا اس سے بھی زیادہ۔
حدیث نمبر: 5508
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ وَأُكَبِّرُهُ وَأَحْمَدُهُ وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ وَفِي لَفْظٍ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں (نمازِ فجر سے) طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہوں اور اس کی بڑائی، حمد، تسبیح اور تہلیل بیان کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا زائد گردنوں کو آزاد کروں، ایک روایت میں چار گردنوں کا ذکر ہے، اور اگر میں نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک یہی ذکر کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہو گا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار گردنیں آزاد کروں۔
حدیث نمبر: 5509
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ لِمَ سَمَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَهُ الَّذِي وَفَّى لِأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سہل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتلا دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ کیوں فرمایا کہ ابراہیم وفا دار اور پورا حق ادا کرنے والا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صبح شام یہ ذکر کیا کرتے تھے: {فَسُبْحَانَ اللّٰہِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ} … پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ کیا ہے: {اَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِی صُحُفِ مُوْسٰی وَاِبْرَاہِیْمَ الَّذِی وَفّٰی۔} … کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسی (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھی اور اس ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں، جس نے پورا حق ادا کیا تھا۔ (سورۂ نجم: ۳۶، ۳۷)
حدیث نمبر: 5510
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ الثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت تین بار پڑھا: أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِاور پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیات تلاوت کیں تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کرے گا، وہ اس کے لیے شام تک دعائے رحمت کرتے رہیں گے اور اگر وہ دن کو فوت ہو گیا تو شہادت کی موت پائے گا اور جس نے شام کو یہ ذکر کیا، اس کو بھی صبح تک یہی فضیلت حاصل ہو گی۔
حدیث نمبر: 5511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا حِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي قَالَ نَعَمْ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ابو بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: اے ابا جان! میں آپ کو ہر صبح و شام کو تین تین بار یہ کلمات کہتے ہوئے سنتا ہوں: اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْت۔(اے اللہ! میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ! میرے کان میں عافیت دے، اے اللہ! میری آنکھ میں عافیت دے، تو ہی معبودِ برحق ہے) اور اسی طرح ہر صبح و شام کو میں سنتا ہوں کہ آپ تین تین بار یہ دعا پڑھتے ہیں: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب ِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اقتدا کرنا پسند کرتا ہوں، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔