حدیث نمبر: 5478
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ كُلِّ ضَيْقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کثرت سے استغفار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل آیات سے ثابت ہوا کہ رزق کا حصول اور غموں سے نجات استغفار کے فوائد میں سے ہیں:
حدیث نمبر: 5479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ اللَّهُ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔
حدیث نمبر: 5480
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایک دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبدیت کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔ (نَسْأَلُ اللّٰہَ اَنْ یُطَھِّرَنَا مِنَ الذُّنُوبِ وَاَنْ یَسْتُرَ مَا لَنَا مِنَ الْعُیُوْبِ)
حدیث نمبر: 5481
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ اسْتَغْفَرَ مِائَةَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ أَوْ إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ نے سو دفعہ بخشش طلب کی اور پھر یہ دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھ پر رجوع کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والارحم کرنے والا ہے)۔ ایک روایت میں آخر میں إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 5482
عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دل پر طاری ہونے والی غفلت سے مراد کسی عارضے کی بنا پر ذکر کے تسلسل کا منقطع ہو جانا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاکیزہ دل اس انقطاع کو محسوس کر لیتا تھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ازالہ کرتے تھے، کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے کو اس حدیث ِ مبارکہ کا عملی طور پر تجربہ ہوتا ہے، جب عظیم لوگوں کی عبادت کا وقت دوسرے جائز اور مباح امور میں صرف ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں اس کمی کو محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5483
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدَةٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعَبْدُ آمِنٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 5484
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳)
وضاحت:
فوائد: … دراصل سورۂ نصر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری وقت آ گیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ بڑی عمر یا مخصوص بیماری کی وجہ سے موت کو قریب سمجھنے لگ جائیں وہ اس سورت میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں۔