کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ … کا بیان
حدیث نمبر: 5437
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مِائَتَيْ مَرَّةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ لَمْ يَسْبِقْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ وَلَا يُدْرِكْهُ أَحَدٌ بَعْدَهُ إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5437
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الحاكم: 1/500، والبزار: 3070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6740»
حدیث نمبر: 5438
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَنَحَ مَنْحَةَ وَرِقٍ أَوْ مَنْحَةَ لَبَنٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فَهُوَ كَعِتَاقِ نَسَمَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … چاندی کے عطیے سے مراد قرض دینا ہے اور دودھ کے عطیے سے مراد یہ ہے کہ دودھ والا جانور کسی کو دے دیا جائے اور کچھ عرصہ تک دودھ کا فائدہ حاصل کرتا رہے اور پھر وہ جانور مالک کو واپس کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5438
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 7202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18710»
حدیث نمبر: 5439
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنائ، توحید اور اس کے لیے قدرت و عظمت کے اقرار پر مشتمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5439
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3585 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6961»
حدیث نمبر: 5440
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5440
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3293، 6403، ومسلم: 2691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8860»
حدیث نمبر: 5441
عَنْ وَاهِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ قَالَ فَلَقِيَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ اتَّكَلُوا عَلَيْهَا فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، لكن من حديث ابي ذر دون القصة مع عمر، كما سلف برقم (5428) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28039»
حدیث نمبر: 5442
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ خَمْسًا قَالَ هَؤُلَاءِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1561»