حدیث نمبر: 5422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔ اس کلمہ کی فضیلت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۳۰)
حدیث نمبر: 5423
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔
حدیث نمبر: 5424
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ عَمِّي أَنْ يَقُولَهُ فَلَمْ يَقُلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کلمہ اپنے چچا ابو طالب پر پیش کیا تھا، وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تھا۔
حدیث نمبر: 5425
عَنْهُ أَيْضًا فَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … امر سے مراد وہ وسوسے اور شرّ کی انواع ہیں، جو شیطان بندوں کے نفسوں میں ڈالتا ہے، چونکہ سب سے زیادہ فضیلت والا، بخشش کا ذریعہ بننے والا، توحید کو ثابت کرنے والا اور شرک کی نفی کرنے والا ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے، اس لیے ایسے عظیم ذکر سے ہی شیطان اور اس کے وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5426
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد:معلوم ہوا کہ قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنی چاہئے۔عوام الناس میں مشہور کر دیا گیاہے کہ قریب المرگ آدمی کے پاس بیٹھ کر کلمہ پڑھنا چاہئے، اسے تلقین نہیں کرنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تلقین قبول کرنے سے انکار کر دے۔
حدیث نمبر: 5427
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 5428
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ بِهَذَا بَعْدُ وَيَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں خوارج اور معتزلہ جیسی بدعتی فرقوں کاردّ ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ توبہ کے بغیر مرنے والا کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
حدیث نمبر: 5429
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَتْ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے صَمَد کے معانی بے نیاز کے کیے ہیں، اس لفظ کے مزید معانی یہ ہیں:
حدیث نمبر: 5430
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِيبَاجٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ وَيَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَاجْتَذَبَهُ وَقَالَ لَا أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَيْنِ وَأَنْهَاكُمَا عَنْ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْخَيْرَاتِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهِمَا لَفَصَمَتْهُمَا أَوْ لَقَصَمَتْهُمَا وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! کیا شان ہے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کی صفات پر دلالت کرنے والے کلمات کی۔ اسی لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) … کثرت سے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی شہادت دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔ (ابو یعلی: ۱۱/۸، ۶۱۴۷، الصحیحۃ:۴۶۷) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا۔
حدیث نمبر: 5431
عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ وَكَانَ يَتْبَعُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَيَسْمَعُ قَالَ كُنْتُ مَعَهُ فَلَقِيَ نَوْفًا فَقَالَ نَوْفٌ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمَلَائِكَتِهِ ادْعُوا لِي عِبَادِي قَالُوا يَا رَبِّ كَيْفَ وَالسَّمَاوَاتُ السَّبْعُ دُونَهُمْ وَالْعَرْشُ فَوْقَ ذَلِكَ قَالَ إِنَّهُمْ إِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اسْتَجَابُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔
حدیث نمبر: 5432
عَنْهُ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَوْفًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ اجْتَمَعَا فَقَالَ نَوْفٌ لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى لَرَجَحَتْ بِهِنَّ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِنَّ كُنَّ طَبَقًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَجُلٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَخَرَقَتْهُنَّ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 5433
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔