کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ذکر ِ خفی کا بیان
حدیث نمبر: 5418
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ذکر مخفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے، جس سے گزارا ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مختلف اشخاص اور احوال کے اعتبار سے مخفی یا جہری ذکر فضیلت والا قرار دیا جا سکتاہے، اگر ریاکاری کاخطرہ نہ ہو اور غافل لوگوں کو سبق حاصل ہو رہاہو تو جہری ذکر افضل ہو گا اور اگر ریاکاری کا شبہ ہو یا نمازیوںپر تشویش ہو رہی ہو تو سرّی ذکر افضل ہوگا، بہرحال سرّی عمل کی فضیلت اور حکمت مسلم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5418
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمن بن ابي لبيبة ضعيف، ثم ھو لم يدرك سعدا، أخرجه ابويعلي: 731، وابن ابي شيبة: 10/375 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1477»
حدیث نمبر: 5419
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے اور بلند ہوتے اور کسی وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے نفسوں پر نرمی کرو، بیشک تم لوگ ایسی ذات کو نہیںپکار رہے جو بہری یا غائب ہو، بلکہ تم سننے والی اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو، بیشک تم جس ذات کا ذکر کر رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبد اللہ! کیا میں تجھے ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں، جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِلَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔ خزانے سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مال کا خزانہ عمدہ اور نفیس چیز ہوتی ہے، اسی طرح یہ ذکر بھی عمدہ ہے اور اس کا اجر و ثواب جنت میں داخل کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5419
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6610، ومسلم: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19828»