کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5415
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَالُوا وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ جنت کے باغیچوں کے پاس سے گزرو تو استفادہ کر لیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا: جنت کے باغیچوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسِ ذکر۔
وضاحت:
فوائد: … جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہو، وہاں بیٹھنا روح کے لیے مفید ہے۔ وعظ و نصیحت کی مجلسیں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک صورت ہیں، اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ان میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5416
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں لگی ہوئی ایک مجلس کے پاس آئے اور کہا: کس چیز نے تم لوگوں کو بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا: میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور کوئی نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بھی ہو اور احادیث بھی کم بیان کرے، ما سوائے میرے، بہرحال ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! ہم صرف اسی عمل کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں نے کسی تہمت اور شک کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا، دراصل بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے اور کاتب ِوحی بھی تھے، اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ تھا۔
حدیث نمبر: 5417
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ فَقِيلَ وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ربّ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائیں گے: ساری مخلوقات میں سے اہل کرامت کو پہنچان لیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کرامت سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوںمیں منعقد ہونے والی مجالسِ ذکر والے لوگ۔