حدیث نمبر: 5397
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلَامٍ أَوِ امْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَتَحُ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَبْتَرُ أَوْ قَالَ أَقْطَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرف والی گفتگو یا کام، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور ادھورا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کئی احادیث سے مختلف امور سے پہلے بسم اللہ یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کا پڑھنا اور لکھنا ثابت ہوتا ہے، اس لیے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کے پڑھنے اور ہر اچھی تحریر سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5398
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَقَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اس کو اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو، ما سوائے ذکر ِ الٰہی کے۔ مزید سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے عمل کی خبر دوں، جو سب سے بہتر ہے، تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کا صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ تمہاری اپنے دشمنوں سے ٹکر ہو اور تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 5399
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ عمل بتلا دوں، جو سب سے بہتر ہے … ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 5400
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هُوَ شَكَّ يَعْنِي الْأَعْمَشَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فَضْلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللَّهُ أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا فَيَقُولُ فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ فَيَقُولُونَ يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا قَالَ فَيَقُولُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ فَيَقُولُونَ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَيَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا قَالَ فَيَقُولُ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ فَيَقُولُونَ فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو اہلِ ذکر کی تلاش میں زمیں میں گھومتے رہتے ہیں، جب وہ محوِ ذکر لوگوںکی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو بآواز بلند پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔ سو وہ آتے ہیںاور انھیں آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (جب یہ فرشتے واپس جاتے ہیں تو)اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: جب تم نے میرے بندوں کو الوداع کہا تو وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے۔ (آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گفتگو مکالمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے): اللہ تعالی: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو (ان کا رویہ کیا ہو گا)؟ فرشتے: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری تعریف کرنے، بزرگی بیان کرنے اورذکر کرنے میں زیادہ سختی اور پابندی کر یں گے۔ اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جو وہ طلب کر رہے تھے؟ فرشتے: وہ جنت کا مطالبہ کر رہے تھے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی حرص اور طلب بڑھ جائے گی۔اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جس سے وہ پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے: آگ سے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے آگ دیکھی ہے؟فرشتے: نہیں۔للہ تعالی: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے دور بھاگنے میں زیادہ سخت ہو جائیں گے اور اس سے زیادہ ڈریں گے۔اللہ تعالی: (فرشتو!) میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے۔ فرشتے: ان میں فلاں آدمی تو بہت خطاکا ر تھا، وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا، اس کا مقصود ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا (تو اسے کیسے بخش دیا گیا)؟اللہ تعالیـ: وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی نامراد نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 5401
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 5402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَنَا مَعَ عَبْدِي حِينَ يَذْكُرُنِي وَفِي لَفْظٍ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ، اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس معیت سے مراد اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے، جو اس کی رحمت، توفیق، ہدایت اور اعانت کا سبب بنتی ہے، وگرنہ علم اور احاطہ والی عام معیت تو ہر ایک کو حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 5403
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے وہ اوقات مستثنی ہیں،جن میں ذکر نہیں کیا جا سکتا، مثلاً: قضائے حاجت کرنا، حق زوجیت ادا کرنا، نیند کرنا، کھانا پینا، لوگوں اور بالخصوص بیویوں سے گفتگو کرنا، وغیرہ۔
حدیث نمبر: 5404
عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مسلم اغر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما پر گواہی دیتا ہوںکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں کے سامنے ذکر کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں۔
حدیث نمبر: 5405
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والی مخلوق کے سامنے ان کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کو اس کا نسب آگے نہیں لے جا سکے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت پر نہیں ہے، بلکہ وہاں کا سلسلہ اچھے اور برے اعمال سے متعلقہ ہے، اگر اچھے اعمال نہ ہوئے تو نوح علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کا بیٹا بھی سعادت مند نہیں بن سکے گا۔
حدیث نمبر: 5406
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے بندے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے درجے کے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ کافروں اور مشرکوں پر اپنی تلوار چلائے، یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے لت پت ہو جائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ایک درجہ اس سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 5407
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا فَحَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَظُنُّهُ أَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان باوضوء ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے رات کو سو جاتا ہے، وہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کرجب بھی اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کاسوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دے دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں باوضو سونے کی فضلیت کا بیان ہے کہ ایسا آدمی رات کو بیدار ہوتے وقت دین و دنیا کی خیر و بھلائی کی جو دعا کرے گا وہ قبول ہو گی۔
حدیث نمبر: 5408
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، آسمان سے ایک منادی دینے والا ان کو آواز دیتا ہے: چلے جاؤ، تم کو بخش دیا جا چکا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
حدیث نمبر: 5409
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْضُلُ الذِّكْرُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ ضِعْفٍ وَفِي لَفْظٍ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ایک روایت میں سات سو گنا کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 5410
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاهُ رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَقُلْ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتی جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا ہومگر وہ ان پر نقصان کا باعث ہو گا، جو آدمی جو کسی رستے میں چل رہا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف ہو گا اور جو آدمی اپنے بستر پر سونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہو گا۔ ایک راوی نے بستر پر سونے کا ذکر نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تہلیلات، تکبیرات اور تحمیدات بیان کر کے اس کا ذکر کرنا جہاں باعثِ اجرِ عظیم ہے، وہاں اس سے غفلت برتنا باعث ِ حسرت و ندامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی مختلف حالتوںیعنی چلنے،کھڑا ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کے دوران اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی انداز میں یاد کرتا رہے۔
حدیث نمبر: 5411
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ قَالَ لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اے محمد! مردوں میں سے بہترین کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ دوسرے بدّو نے کہا: اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں، اگر کوئی ایک جامع سا عمل ہو جائے اور ہم پابندی سے اس پر عمل کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں وہ آدمی یہ کہنا چاہتا ہے کہ مسلمان کے اسلام کی صداقت پر دلالت کرنے والے اسلام کے شعبہ جات بہت زیادہ ہے، ہم ان سب پر عمل نہیں کر سکتے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے افضل شعبوں کا انتخاب کرنا بھی ہمارے لیے دشوار ہے، اس لیے کسی جامع عمل پر ہماری رہنمائی کر دی جائے۔
حدیث نمبر: 5412
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا قَالَ فَأَيُّ الصَّائِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا ثُمَّ ذَكَرَ لَنَا الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَةَ كُلُّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا حَفْصٍ ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کون سا جہاد زیادہ اجر والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: کون سے روزے دار زیادہ اجر والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں اسی طرح کے سوالات کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حفص! ذکر کرنے والے تو ہر قسم کی خیر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں بالکل۔
حدیث نمبر: 5413
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ لوگ تم کو پاگل کہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عبادت کی کیفیت و کمیّت کا تعین ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی عبادات کے نمونے اور ان میں ان کا رونا اور گڑگڑانا ہمارے سامنے ہے، ان ہی کی اقتداء کرنی چاہیے، عام دنیا دار لوگوںکو دیکھا گیا ہے کہ وہ عبادت گزار لوگوں کی عبادتوں سے مذاق کرتے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5414
عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْمُفَرِّدُونَ قَالَ الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مفردون سبقت لے گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ رسول! مفردون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔