کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آدمی کی دوڑ کے مقابلے کا بیان
حدیث نمبر: 5168
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِنْ بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ، سیدنا عبیداللہ اور بنو عباس کے کئی بچوں کو ایک لائن میں کھڑا کرتے اور پھر ان سے فرماتے: جو میری طرف سب سے پہلے پہنچے گا، اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر اور سینۂ مبارک پر چڑھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور ان کو گلے لگا لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5168
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، يزيد بن ابي زياد الھاشمي ضعيف، وعبد الله بن الحارث تابعي ولد في حياة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وروايته عنه مرسلة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1836»
حدیث نمبر: 5169
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا رَهِقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ هَذِهِ بِتِلْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، سو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی، پھر ہم ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جب مجھ پر گوشت آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے سبقت لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جیت اُس سابق مقابلے کا بدلہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ورزش نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے زوجۂ محترمہ کے ساتھ حسن معاشرت کا ایک انداز ہے، اس سے بیوی کے دل میں خاوند کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خوش بھی ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24619»
حدیث نمبر: 5170
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِمْ مِنْ غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبًا مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ جَعَلَ يُنَادِي هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرْدِفِي قُلْتُ لَهُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي فَلْأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قُلْتُ أَذْهَبُ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَةِ ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَيَّ قُلْتُ سَبَقْتُكَ وَاللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنْ أَظُنُّ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ غزوۂ ذی قرد سے مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا قصہ بیان کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمارے اور مدینہ کے درمیان نصف النہار کے قریب تک فاصلہ تھا، اس لشکر میں ایک انصاری آدمی تھا، دوڑ میں کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں تھا، وہ اس سفر میں یہ آواز دینے لگ گیا: ہے کوئی مقابلہ کرنے والا، کوئی آدمی ہے جو مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے، اس نے کئی بار یہ بات دوہرائی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ردیف بنایا ہوا تھا، میں نے اس آدمی سے کہا: کیا تو کسی کریم کی عزت نہیں کرتا، کیاتجھ پر کسی شرف والے کی کوئی ہیبت نہیں؟ اس نے کہا: نہیں، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے جانے دیں، میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو کر لے۔ پھر میں نے اس سے کہا: میں آ رہا ہوں، اب نیچے اتر اپنی سواری سے، وہ کود کر اپنی سواری سے نیچے آ گیا، میں نے بھی پاؤں موڑا اور اونٹ سے نیچے کود آیا، دوڑ شروع ہو گئی، میں نے ایک دو ٹیلوں تک تو تیز دوڑنے سے گریز کیا، تاکہ سانس کا سلسلہ منقطع نہ ہو جائے، پھر میں تیز دوڑا، یہاں تک اس کو جا ملا اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا: اللہ کی قسم میں تجھ سے آگے نکل گیا ہوں، وہ جواباً ہنسا اور اس نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے حتیٰ کہ ہم مدینہ آگئے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: وفی ہذا دلیل لجواز المسابقۃ علی الأقدام وہو جائز بلا خلاف إذا تسابقا بلا عوض فإن تسابقا علی عوض ففی صحتہا خلاف الأصح عند أصحابنا لا تصح۔ … اس حدیث میں دوڑ کے مقابلے کا جواز ہے اور یہ اس وقت تو بلااختلاف جائز ہے، جب بغیر کے عوض کے ہو، اگر بیچ میں کوئی عوض رکھا جائے تو اس کی صحت میں اختلاف ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک راجح
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16654»