کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
حدیث نمبر: 5158
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقابلہ بازی نہیں ہے، مگر اونٹ دوڑ میں یا گھوڑ دوڑ میں۔
وضاحت:
فوائد: … سنن کی روایات میں تیر اندازی کا بھی ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 5159
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكُنْتُ فَارِسًا يَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے بعد امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک پانچ یا چھ میل کا فاصلہ ہے اور ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا۔
حدیث نمبر: 5160
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَأَعْطَى السَّابِقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔
حدیث نمبر: 5161
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بِالْخَيْلِ وَرَاهَنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑدوڑ میں مقابلہ کروایا اور انعام دینے کی شرط لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 5162
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔
حدیث نمبر: 5163
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ أُرْسِلَتِ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَقُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سَبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوں میں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔
حدیث نمبر: 5164
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، لیکن ایک دن ایک بدو اپنے اونٹ پر آیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی سے آگے گزر گیا، جب یہ چیز صحابۂ کرام پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرتا ہے، پھر اس کی حیثیت کو گراتا بھی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں دنیا سے بے رغبتی اور تواضع اور انکساری کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ اس میں جس چیز کو رفعت ملے گی، ذلت بھی اسی کو مقدر ہو گی۔
حدیث نمبر: 5165
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: درج ذیل امور پر غور کریں: (۱) اگر امیر یا کوئی اور شخص دو شہسواروں میں دوڑ وغیرہ کا مقابلہ کرائے اور جیتنے والے کو انعام دے تو یہ جائز ہے۔ (۲) اگر دو افراد یا فریق آپس میں یہ طے کر کے مقابلہ کریں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اس قدر انعام دے گا تو یہ جوا ہے اور ناجائز ہے۔ (۳)اگر ان دو مقابلہ کرنے والوں میں کوئی تیسرا فریق داخل ہو جائے، جس کے جیتنے یا ہارنے کا کوئی یقین نہ ہو، بلکہ ان کے ہم پلہ ہونے کی بنا پر کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہو، اور اس کے جیت جانے پر وہ دونوں اس کو انعام دیں اور ہار جانے پر اس پر کچھ بھی لازم نہ آتا ہو تو یہ صورت جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5166
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے اور نہ جنب اور اسلام میں شغار نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح کے ابواب میں شغار کی تفصیل گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 5167
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے، نہ جنب ہے اور نہ شغار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جَلَب اور جَنَب دو اصطلاحات ہیں، جو زکاۃ میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور گھوڑ دوڑ میں بھی۔