کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
حدیث نمبر: 5124
عَنْ صَخْرِ بْنِ عَيْلَةَ أَنَّ قَوْمًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَرُّوا عَنْ أَرْضِهِمْ حِينَ جَاءَ الْإِسْلَامُ فَأَخَذْتُهَا فَأَسْلَمُوا فَخَاصَمُونِي فِيهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِمْ وَقَالَ إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ فَهُوَ أَحَقُّ بِأَرْضِهِ وَمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صخر بن عیلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اسلام آیا تو بنو سلیم کے کچھ لوگ اپنی زمین سے بھاگ گئے، میں نے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا، جب وہ مسلمان ہو گئے تو وہ یہ جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ زمین ان کو لوٹا دی اور فرمایا: جب آدمی مسلمان ہو جاتا ہے تو وہی اپنی زمین اور مال کا زیادہ مستحق ہوتاہے۔
حدیث نمبر: 5125
عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَاضِيهِمْ وَرَقِيقِهِمْ وَمَاشِيَتِهِمْ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین، غلام اور مویشی وغیرہ سمیت وہ لوگ جس جس چیز پر ایمان لائے ہیں، وہ ان ہی کی ہو گی، ان کے ان مالوں میں صرف زکوۃ فرض ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث تو ضعیف ہیں، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ اگر جنگی دشمن پکڑے جانے سے پہلے مسلمان ہو جائے تو وہ اپنا مال بچا لے گا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاء َہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ)) … مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، جب وہ ایسا کریں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے بچا لیں گے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ (صحیح بخاری: ۲۵، صحیح مسلم: ۲۲)
حدیث نمبر: 5126
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا فَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس بستی میں تم آئے اور (اس بستی والوں سے مال پر مصالحت کر کے) وہاں قیام کیا تو تمہارے لیے تمہارا وہی حصہ ہو گا، لیکن جس بستی والوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی (اور تم نے ان سے لڑائی کر کے فتح حاصل کر لی تو ان کا مال غنیمت ہو گا اور) اس کا خُمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گا اور باقی سارا تم کو مل جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ جتنے مال پر مصالحت ہو گی، وہ تمہارا حق ہو گا اور دوسرے حصے میں مالِ غنیمت کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 5127
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَئِنْ عِشْتُ إِلَى هَذَا الْعَامِ الْمُقْبِلِ لَا يُفْتَحُ لِلنَّاسِ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَهُمْ كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسلم سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو لوگوں کے لیے جو بستی بھی فتح ہو گی، میں اس کو ان کے درمیان تقسیم کر دوں گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
حدیث نمبر: 5128
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ وَصَارَتْ خَيْبَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ ضَعُفُوا عَنْ عَمَلِهَا فَدَفَعُوهَا إِلَى الْيَهُودِ يَقُومُونَ عَلَيْهَا وَيُنْفِقُونَ عَلَيْهَا عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَجَعَلَ نِصْفَ ذَلِكَ كُلِّهِ لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ النِّصْفِ سِهَامُ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا وَجَعَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ لِمَنْ يَنْزِلُ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالْأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بُشیر بن یسار سے مروی ہے کہ انھوں نے اصحاب ِ رسول میں سے بعض افراد کو اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا اور خیبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت ہو گیا، جبکہ مسلمان اس سرزمین کا سارا کام کاج کرنے سے عاجز تھے، تو انھوں نے اس کو یہودیوں کے ہی سپرد کر دیا کہ وہی اس کی ذمہ داری ادا کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے، اس کے عوض ان کو نصف پیداوار ملے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھتیس حصوں پر تقسیم کیا، ہر حصہ سو حصوں پر مشتمل تھا، خیبر کی زمین سے جو حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نصف کو مسلمانوں میں اس طرح تقسیم کر دیتے تھے کہ اس میں مسلمانوں کے حصے بھی ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی، باقی نصف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفود، امور اور لوگوں کے دوسرے حوادث و مہمات میں خرچ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ نصف خیبر بزور فتح ہوا اور نصف صلحاً، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف خیبر کا مال بطورِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاص حصہ اور خُمُس بھی شامل تھا، اور باقی صلحاً فتح ہونے والے نصف سے حاصل ہونے والے مال کو مسلمانوں کی خاص اور عام مصالح کے لیے وقف کر دیا۔
حدیث نمبر: 5129
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ يَقُولُ لَمَّا افْتَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ اقْسِمْهَا فَقَالَ عَمْرٌو لَا أَقْسِمُهَا فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ عَمْرٌو وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سفیان بن وہب خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نے بغیر کسی معاہدے کے مصر فتح کر لیا تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عمرو بن عاص! اس کو تقسیم کرو، لیکن انھوں نے کہا: میں اس کو تقسیم نہیں کروں گا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہر صورت میں اس کو ایسے ہی تقسیم کرو گے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس وقت تک تقسیم نہیں کروں گا،جب تک اس کی تفصیل لکھ کر امیر المومنین کو نہیں بھیج دوں گا، پھر انھوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور امیر المومنین نے جوابی تحریر میں یہ حکم دیا: اس کو ایسے برقرار رکھو، یہاں تک کہ حاملہ خواتین کے حمل کے بچے جہاد کریں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ مصر بزور فتح ہوا ہے، جبکہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ یہ صلحاً فتح ہوا ہے۔ ابن اثیر نے النھایۃ: ۱/ ۳۳۴ میںکہا: حاملہ خواتین کے حمل کے بچے جہاد کریں اس سے مراد یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی بہت زیادہ اولاد ہو گی۔