کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
حدیث نمبر: 5120
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو غلام اپنے مالکوں سے پہلے مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن اس طرح کے دو آدمیوں کو آزاد کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 511، وابويعلي: 2564،والطبراني: 12079، والدارمي: 2508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2111»
حدیث نمبر: 5121
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کر لیا، ان کے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ویسے جب بھی غلام مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5121
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2176»
حدیث نمبر: 5122
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن فرمایا: جو غلام ہمارے پاس آ جائیں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ پھر ابوبکرہ سمیت کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5122
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2229»
حدیث نمبر: 5123
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مِنْ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) راوی کہتے ہیں: طائف والے دن مشرکوں کے جو غلام نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … دیگر احادیث بھی موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی کافر کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، لیکن ذہن نشین رہے کہ اگر مالک اپنے غلام سے پہلے مسلمان ہو جائے اور پھر غلام مسلمان ہو تو غلام کو مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا، کیونکہ مالک نے قبولیت ِ اسلام کے ذریعے اپنا مال محفوظ کر لیا اور اس کا غلام بھی اس کا مالک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5123
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1959»