کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5100
عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خَلَّى سَبِيلَهُ فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخَلَّى سَبِيلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں قریظہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جس کے زیرناف بال اُگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جس کے زیر ناف بال نہیں اُگے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل نہ کیا، میں (عطیہ) ان بچوں میں سے تھا، جن کے بال نہیں اگے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قتل سے رہا کر دیا۔
حدیث نمبر: 5101
عَنْ كَثِيرِ بْنِ سَائِبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کثیر بن سائب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریظہ کے دو بیٹوں نے مجھے بیان کیا کہ ان کو بنو قریظہ کی بدعہدی کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، پس ان میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا اس کے زیرِ ناف بال اگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جو ایسے نہیں تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … زیر ناف بالوں کے اُگ آنے کو بلوغت کی علامت سمجھا گیا، اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ مشرک لوگوں کے قتل یا جزیہ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے زیرناف بالوں کو بلوغت یا عدم بلوغت کی حد قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی بات غیر معتبر ہو گی۔
حدیث نمبر: 5102
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ أَسِيرَ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کے قیدی کے درپے نہ ہو کہ وہ اس کو قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 5103
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ كُنَّا فِي الْبَحْرِ وَعَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِصَاحِبِ الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبْيَ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا فَرَّقُوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ وَلَدِهَا قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبد الرحمن حُبُلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (روم کے علاقوں میں) سمندری جہاد کر رہے تھے، عبد اللہ بن قیس فزاری ہمارے امیر تھے اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ تھے، جس آدمی نے مالِ غنیمت تقسیم کرنا تھا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرے، اس نے قیدیوں کو کھڑا کیا ہوا تھا اور ان میں ایک خاتون رو رہی تھی، انھوں نے کہا: اس کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمانوں نے اس کے اور اس کے بچے کے ما بین جدائی ڈال دی ہے، پس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اس کی ماں کو پکڑا دیا، یہ دیکھ تقسیم کرنے والا عبد اللہ بن قیس کے پاس گیا اور اس سے شکایت کی، انھوں نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا: کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے والدہ اور اس کے بچے کے مابین تفریق ڈالی، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے اور اس کے محبوبوں کے درمیان تفریق ڈال دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے لگتا ہے کہ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رومیوں سے کیا جانا والا ایک غزوہ ہے، جبکہ رومیوں سے کئی لڑائیاں ہوئی تھیں، ایک لڑائی میں سیدنا ابو ایوب انصاری فوت ہو گئے تھے، ان کو قسطنطنیہ میں دفن کیا گیا تھا۔ اب قسطنطنیہ کو استنبول کہتے ہیں، یہ ترکی میں واقع ہے۔
حدیث نمبر: 5104
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالسَّبْيِ فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپس میں قرابت والے) قیدی ایک گھر والوں کو دے دیتے، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان کے درمیان جدائی ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ اَبِیْعَ غُلَامَیْنِ أَخَوَیْنِ فَبِعْتُہُمَا فَفَرَّقْتُ بَیْنَہُمَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَدْرِکْہُمَا فَأَرْجِعْہُمَا وَلَا تَبِعْہُمَا اِلَّا جَمِیْعًا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں
حدیث نمبر: 5105
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى مِنَ السَّبَايَا وَأَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً ثَيِّبًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا يَعْنِي إِذَا اشْتَرَاهَا وَأَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین والے دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ حاملہ قیدی خواتین سے مخصوص تعلق قائم نہ کیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی خاوند والی قیدی خاتون سے مباشرت کرے، جب تک استبرائے رحم نہ کر لے، یعنی جب وہ ایسی خاتون خریدے تو استبرائے رحم سے پہلے اس سے خاص تعلق قائم نہ کرے، اور یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت کو بیچ دے۔
حدیث نمبر: 5106
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوطَأَ الْأَمَةُ حَتَّى تَحِيضَ وَعَنِ الْحُبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ لونڈی سے اس کا حیض آنے تک اور حاملہ سے اس کا بچہ پیدا ہونے تک مباشرت کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی آدمی کو حاملہ قیدی خاتون یا ایسی عورت مل جاتی ہے، جس سے مباشرت کی جاتی رہی، یا کوئی ایسی خواتین خرید لیتا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حاملہ قیدی کا بچہ پیدا ہونے تک انتظار کرے اور غیر حاملہ خاتون کا حیض آنے کا انتظار کرے، تاکہ پتہ چل جائے کہ رحم خالی ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 5107
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے، جو حاملہ لونڈی سے مباشرت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5108
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمے کے دروازے پر یا اس کے ایک کونے میں ایسی خاتون دیکھی، جس کا بچہ جنم دینے کا وقت لگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید اس کا مالک اس سے مباشرت کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس شخص پر ایسی لعنت کروں، جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں بھی گھس جائے، وہ اس کا کیسے وارث بنے گا، جبکہ وہ اس کیلئے حلال نہیں ہے، وہ اس سے کیسے خدمت لے گا، جبکہ وہ اس کیلئے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5109
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تَعْلَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ فَبَلَغَ ذلِكَ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید بن تعلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی قیادت میں غزوہ کیا، ان کے پاس عجمی لوگوں میں چار کافر لائے گئے اور انھوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، پس ان کو باندھ کر تیر کے ساتھ قتل کر دیا گیا، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو پتہ چلی تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا تھا کہ آپ باندھ کر قتل کرنے سے منع کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ایسے ہوتا ہے کہ روم کے علاقے میں لڑا جانے والا غزوۂ قسطنطنیہ ہے، کیونکہ اس کے امیر عبد الرحمن بن خالد تھے، یہ ۴۴ ھ میںپیش آ یا تھا۔