کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان¤ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
حدیث نمبر: 5093
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عقیل کے ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لیے تھے۔
حدیث نمبر: 5094
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بدر والے بعض قیدیوں کے پاس اپنے فدیے کے طور پر دینے کی کوئی چیز نہیں تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ان کا فدیہ قرار دیا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت کی تعلیم دے دیں، ایک دن ان میں سے ایک بچہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا، اس نے پوچھا: بیٹا! تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرے استاد نے مجھے مارا ہے، اس نے کہا: خبیث، یہ بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اس کے پاس کبھی بھی نہیں جانا۔
حدیث نمبر: 5095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ خَبِيثُ الدِّيَةِ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمانوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل کر دیا، انھوں نے اس کی لاش کے عوض مال دینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ان کی لاش ان کے سپرد کر دو، یہ لاش بھی خبیث ہے اور اس کا عوض بھی خبیث ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عوض ان سے کچھ وصول نہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: معلوم ہوا کہ مشرک کی لاش کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ مردار ہے، جس کا مالک بننا اور اس کا عوض لینا جائز ہی نہیں ہے، شارع علیہ السلام نے مردار اور بتوں کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، امام بخاری نے اپنی صحیح میں یہ باب قائم کیا: بَاب طَرْحِ جِیَفِ الْمُشْرِکِینَ فِی الْبِئْرِ وَلَا یُؤْخَذُ لَہمْ ثَمَنٌ (مشرکوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکنے اور ان کی قیمت نہ لینے کا بیان) پھر اس باب میں وہ حدیث ذکر کی، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہل اور قریش کے دوسرے سرداروں پر بد دعا کی تھی، (یہ دعا قبول ہوئی اور) وہ سردار غزوۂ بدر میں قتل ہو گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۵/ ۳۰۷)
حدیث نمبر: 5096
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُصِيبَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل ہو گیا، اُن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس آدمی کو دفنانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے کوئی کرامت اور عزت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اس کے عوض آپ کو کچھ دے دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت خبیث چیز ہو گی، بلکہ سب سے زیادہ خبیث ہو گی۔