کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
حدیث نمبر: 5073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمْ يَبْنِ وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا أَحَدٌ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ قَالَ فَلَصِقَ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ فَأَخْرَجُوْا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے، جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بنا ہو اور خلوت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، جبکہ اس نے ابھی تک خلوت اختیار نہ کی ہو، ایسا آدمی بھی میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو، لیکن ابھی تک چھت ڈالنا باقی ہو اور ایسا شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا گابھن جانور خریدے ہوں اور وہ ان کے بچے جنم دینے کا انتظار کر رہا ہو، پس وہ نبی جہاد کے لیے چلا اور ایک بستی کے قریب پہنچ گیا، یہ نمازِ عصر کا وقت تھا یا اس کے قریب کا، پس اس نے سورج سے کہا: تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اس سورج کو کچھ دیر کے لیے روک لے، پس اس کو اس کے لیے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی اور انھوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، اس کو کھانے کے لیے آگ تو آئی، لیکن اس نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا، یہ منظر دیکھ کر اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، سو ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے، پس انھوں نے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، لہذا تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے، پس سارے قبیلے نے بیعت کی اور دو تین آدمیوں کے ہاتھ چمٹ گئے، اس نے کہا: تم افراد میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے، پس انھوں نے سونا نکالا، جو گائے کے سر کی مانند تھا اور اس کو مال میں رکھ دیا، جو کہ سطح زمین پر پڑا تھا ، پھر آگ آئی اور اس کو کھا گئی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ غنیمتیں ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں ، پس اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھ کر ان کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ۔‘‘
وضاحت:
فوائد: … خیانت کی قباحت و شناعت واضح ہو رہی ہے، مزید قیمتی معلومات درج ذیل ہیں:
حدیث نمبر: 5074
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور خیانت کا ذکر اور اس کے معاملے کو بڑا اور سنگین کر کے پیش کیا اور پھر فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر بلبلاتا ہوا اونٹ ہو اور وہ یہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں جواباً کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر مماتی ہوئی بکری ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں کہوں گا: میں تیرے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتا، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو، جو ہنہنا رہا ہو اور وہ آدمی کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں تو کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا،میں تم میں کسی کو قیامت کے دن ہر گز اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر چیختی ہوئی کوئی جان ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے حق میں کسی اختیار کا مالک نہیں ہوں، میں نے پیغام پہنچا دیا تھا، میں روزِ قیامت کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اس دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کپڑوں کے ٹکڑے ہوں، جو ہل رہے ہوں اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا اور میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس حال میں آئے کہ اس کے کندھے پر سونا اور چاندی ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد تو کر دو، میں کہوں گا: میں تیری لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تجھے متنبہ کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 5075
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خیبر کا دن تھا اور صحابۂ کرام کا ایک گروہ آیا اور اس نے کہا: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، اسی اثناء میں وہ ایک اور مقتول کے پاس سے گزرے اور اس کے بارے میں بھی یہی کہا کہ وہ شہید ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، میں نے اس کو اس دھاری دار چادر یا چوغے کی وجہ سے آگ میں دیکھا، جو اس نے خیانت کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطا ب! جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ پس میں وہاں سے نکل پڑا اور یہ اعلان کیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 5076
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي أَرْضِ الرُّومِ فَوُجِدَ فِي مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدْتُمْ فِي مَتَاعِهِ غُلُولًا فَأَحْرِقُوهُ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَاضْرِبُوهُ قَالَ فَأَخْرَجَ مَتَاعَهُ فِي السُّوقِ قَالَ فَوَجَدَ فِيهِ مُصْحَفًا فَسَأَلَ سَالِمًا فَقَالَ بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ روم کے علاقے میں مسلمہ بن عبد الملک کے ساتھ تھے، ایک آدمی کے سامان میں خیانت والا مال بھی پایا گیا، مسلمہ نے اس کے بارے میں سالم بن عبد اللہ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جس کے سامان میں خیانت والا مال پاؤ، اس کے سامان کو جلا دو۔ راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کی پٹائی بھی کرو، پس جب انھوں نے اس کا سامان بازار میں نکالا، لیکن جب دیکھا کہ اس میں ایک مصحف بھی ہے تو انھوں نے پھر سالم سے سوال کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
حدیث نمبر: 5077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ عَلَى رَحْلِ وَقَالَ مَرَّةً عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ هُوَ فِي النَّارِ فَنَظَرُوا فَإِذَا عَلَيْهِ عَبَاءَةٌ قَدْ غَلَّهَا وَقَالَ مَرَّةً أَوْ كِسَاءٌ قَدْ غَلَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کرکرہ نامی ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامانِ سفر یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال اور ساز و سامان پر مقرر تھا، جب وہ فوت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: وہ آگ میں ہے۔ جب صحابہ نے اس کا جائزہ لیا تو اس پر ایسا چوغہ پایا، جو اس نے خیانت کیا تھا۔ ایک روایت میں چادر کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 5078
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا فلاں غلام شہید ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گزنہیں، میں نے اس پر ایک چوغہ دیکھا، جس کی اس نے فلاں دن خیانت کی تھی۔
حدیث نمبر: 5079
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى ثَلَاثًا فَأَتَى رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِنْ غَنِيمَةٍ كُنْتُ أَصَبْتُهَا قَالَ أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ فَاعْتَلَّ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِينِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا ارادہ کرتے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے، پس وہ تین بار اعلان کرتے (کہ جس آدمی کے پاس مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر دے)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو پھر ایک آدمی وہ ڈوری لے کر آیا جو ناک کے سوراخ میں سے نکال کر باگ سے باندھی جاتی ہے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی مالِ غنیمت میں سے ہے، میں نے لے لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اس کے بارے میں بلال نے تین بار اعلان کیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو لے کر آئے؟ اس نے عذر تو پیش کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں ہر گز اس کو قبول نہیں کروں گا اور تو خود اس کو قیامت کے دن پورا پورا ادا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب اس آدمی نے اعلان کے باوجود مالِ غنیمت کی ڈوری پیش نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے میں جلدی نہیں کی تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا عذر قبول نہیں کیا اور اس کو وعید بھی سنا دی۔
حدیث نمبر: 5080
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کر لو۔ یہ بات سن کر لوگوں کے چہرے فق ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔ پس جب ہم نے اس کے سامان کو کھولا تو یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی اس کے پاس پائے، وہ دو درہم کی قیمت کے تھے۔
حدیث نمبر: 5081
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ قُصَّةٍ مِنْ فَيْءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهُمَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ فئے کے بالوں کے ایک گچھے میں سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: اس مالِ غنیمت میں سے میرا بھی وہی حصہ ہے، جو تم میں سے کسی ایک کا ہے، ما سوائے خُمُس کے اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں سب کچھ ادا کردو، اور خیانت سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے دن خائن کے لیے عار وشنار اور عیب و رسوائی کا باعث ہو گی۔
حدیث نمبر: 5082
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت خائن کے لیے دنیا و آخرت میں آگ اور عار کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے قریب و بعید سے جہاد کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو،حضرو سفر میں اللہ کی حدود کو نافذ کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو، بیشک جنت کے دروازوں میں سے بڑا دروازہ جہاد ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے غم و حزن سے نجات دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 5083
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفَّلَةَ فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ وَإِنْ تَغْنَمْ تَغْلُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان گھوڑوں سے بچو، جو اپنے مالکوں کے لیے غنیمت کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں اگر تیرا مقابلہ ہو گا تو تو بھاگ جائے گا اور اگر تو غنیمت حاصل کرے گا تو خیانت کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ، جن کا لڑائی لڑنے کا مقصد غنیمت اور مال وغیرہ کا حصول ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5084
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَسَرَنِي فَارِسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ مَعَهُمْ فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَطَبَخُوهَا قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النُّهْبَى أَوِ النُّهْبَةَ لَا تَصْلُحُ فَاكْفِئُوا الْقُدُورَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سماک بن حرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو لیث کے ایک آدمی نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: صحابۂ کرام کے گھوڑ سواروں نے مجھے قید کر لیا، میں ان کے ساتھ تھا، انھوں نے بکریاں دیکھ کر لوٹ مار کی اور ان کو پکانا شروع کر دیا، لیکن (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچے تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ مار درست نہیں ہے، لہذا ہنڈیوں کو انڈیل دو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بکریاں مجاہدین کا حق تھیں، لیکن لوٹ مار کی صورت میں تقسیم حق کے مطابق نہیں ہوتی، طاقت و قوت کے مطابق ہوتی ہے، جو جتنا قوی ہو گا، وہ اس قدر زیادہ لوٹ مار کرے گا، اس طرح بعض کے حصوں میں کمی آ جائے گی اور بعض کے حصوں میں زیادتی، جبکہ شرکت کرنے والے مجاہدین کے حصے مقرر ہیں کہ سوار کو اتنا ملے گا اور پیادہ کواتنا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دے دیا۔