کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امیر اور عامل کے تحائف
حدیث نمبر: 5071
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیّدنا حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاملین کا ہدیہ لینا خیانت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم درست ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5071
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش صدوق في روايته عن اھل بلده، مخلّط في غيرھم، وشيخه ھنا يحيي بن سعيد الانصاري حجازي، أخرجه ابوعوانة: 7073، والبيھقي: 10/ 138 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23999»
حدیث نمبر: 5072
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ أَصَبْتُ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ فِي أَرْضِ الرُّومِ قَالَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَأَتَيْتُ بِهَا يَقْسِمُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ إِذًا لَأَعْطَيْتُكَ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ فَعَرَضَ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ قُلْتُ مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو جویریہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے روم کی سرزمین میں سرخ رنگ کا ایک گھڑا ملا، اس میں دینار تھے، یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بات ہے، بنو سلیم قبیلے کا معن بن یزید نامی ایک صحابی ہمارا امیر تھا، میں وہ گھڑا لے کر ان کے پاس لے کر آیا، تاکہ وہ اس کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر انھوں نے مجھے اتنا مال دیا، جتنا کہ دوسرے افراد کو دے رہے تھے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہی دے دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زائد حصہ نہیں ہوتا، مگر خمس کے بعد۔ پھر انھوں نے مجھ پر میرا حصہ پیش کیا، لیکن میں نے انکار کر دیا اور کہا: میں تیری بہ نسبت اس کا زیادہ حقدار نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15956»