کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مالِ فے کے مصرف کا بیان
حدیث نمبر: 5063
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ ثُمَّ دَعَا بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا فَبَقِيَتْ قِطْعَةُ سِلْسِلَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ ثُمَّ رَفَعَهَا وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يَكْثُرُ لَكُمْ مِنْ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مالِ فئے آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اسی دن اس طرح تقسیم کر دیا کرتے تھے کہ شادی شدہ کو دو حصے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے تھے، ، پس ایک دن ہمیں بلایا گیا اور مجھے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، پس مجھے بلایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو حصے دیئے، کیونکہ میں اہل و عیال والا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو ایک حصہ دیا، سونے کی چین کا ایک ٹکرا بچ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اپنی لاٹھی کے سرے سے اٹھاتے، لیکن وہ گر جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھایا، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جس دن تمہارے لیے یہ سونا بہت زیادہ ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو دنیا کے فتنے سے اور اس کی زینت سے دھوکہ کھانے سے ڈرایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5063
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24486»
حدیث نمبر: 5064
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَةٍ وَفِي لَفْظٍ قُوتَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر کے مال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطورِ مالِ فے دیئے تھے، مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کرنے کے لیے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں دوڑایا تھا، پس یہ مال خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھا (اور اپنی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کر سکتے تھے)، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا دانہ پانی رکھ لیتے اور اس سے جو بچ جاتا، اس کو اللہ کی راہ میں تیاری کرتے ہوئے گھوڑوں اور اسلحہ پر خرچ کر دیتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات، اپنے رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے جیسے مناسب سمجھتے، مالِ فے میں تصرف کرتے تھے، اس مال کی تقسیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی پر موقوف تھی، اس میں کسی کا کوئی مخصوص حق نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2904، 4885، ومسلم: 1757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 171»
حدیث نمبر: 5065
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْلِفُ عَلَى أَيْمَانٍ ثَلَاثٍ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحَقُّ بِهَذَا الْمَالِ مِنْ أَحَدٍ وَمَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ وَاللَّهِ مَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ نَصِيبٌ إِلَّا عَبْدًا مَمْلُوكًا وَلَكِنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَقَسْمِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَقَدَمُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَغَنَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ وَوَاللَّهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَهُمْ لَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ بِجَبَلِ صَنْعَاءَ حَظَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَهُوَ يَرْعَى مَكَانَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین امور پر قسمیں اٹھاتے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! کوئی ایک کسی دوسرے سے اس مالِ فے کا زیادہ مستحق نہیں ہے اور میں بھی کسی سے زیادہ اس کا حق نہیں رکھتا، اللہ کی قسم ہے، ہر مسلمان کا اس مال میں حصہ ہے، ما سوائے غلام کے، ہاں کتاب اللہ کی تفصیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کے مطابق ہمارے مرتبے مختلف ہے، مثلا: ایک آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا ہے، ایک آدمی اور اس کا اسلام کی طرف سبقت کرنا ہے، ایک آدمی اور اس کا غنی ہونا ہے اور ایک آدمی اور اس کی حاجتمندی ہے، اللہ کی قسم ہے، اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرانے والے تک اس کا حصہ پہنچ جائے گا، جبکہ وہ اسی جگہ پر بکریاں چرا رہا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا …۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صحابۂ کرام کو ان کی نیکیوں اور ان کی اسلام میں سبقت یا قدامت کو دیکھ کر ان کو مال فئے میں سے حصہ دیا جائے گا۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار کو اس کا حق پہنچے گا، اگرچہ وہ یمن میں صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرا رہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5065
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، ومحمد بن ميسر الصاغاني ضعيف، لكنه تُوبِع، أخرجه أبوداود: 2950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 292»
حدیث نمبر: 5066
عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمَهُ لَهُ ثُمَّ قَالَ بَلِ اللَّهُ يَقْسِمُهُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ آلَافٍ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ قَالَ وَمَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ناشرہ بن سمی یزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ والے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن اور اس کو تقسیم کرنے والا بنایا ہے، بلکہ یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ ہی تقسیم کرنے والا ہے اور میں اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے اور پھر ان کے بعد شرف والے لوگوں سے شروع کرنے والا ہوں، پھر انھو ں نے امہات المؤمنین کو دس ہزار درہم دیئے، ما سوائے سیدہ جویریہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہ کے، لیکن جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمارے ما بین برابری کرتے تھے تو انھوں نے ان کو برابر برابر مال دے دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد میں اپنے پہلے پہل ہجرت کرنے والے صحابہ سے شروع کرتا ہوں، کیونکہ ظلم و زیادتی سے ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا گیا تھا، پھر ان کے بعد زیادہ شرف والے صحابہ کو مد نظر رکھا اور بدر والے مہاجرین کے پانچ پانچ ہزار اور انصار کے لیے چار چار ہزار درہم مقرر کیے، اور احد میں شریک ہونے والوں کو تین تین ہزار درہم دیئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ہجرت میں جلدی کی، اس کے عطیہ میں جلدی کی جائے گی اور جس نے ہجرت میں تاخیر کی، اس کے عطیہ میں بھی تاخیر ہو گی، پس کوئی آدمی ملامت نہ کرے، مگر اپنی اونٹنی کی بیٹھنے والی جگہ پر، (یعنی اگر کسی آدمی کو تاخیر سے ہجرت کرنے کی بنا پر تھوڑا حصہ مل رہا ہے تو وہ اپنے پیچھے رہ جانے کی مذمت کرے)۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صحابۂ کرام کو اسلام میں ملنے والی سبقت، عظمت اور منزلت کے مطابق ان میں یہ مال تقسیم کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الاثر، رجاله ثقات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16000»
حدیث نمبر: 5067
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا قَالَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي قَالَ فَجِئْتُ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا قَالَ فَخُذْ قَالَ فَأَخَذْتُ قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَهُ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَأَخَذْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي فَقُلْتُ إِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي قَالَ أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ مَا سَأَلْتَنِي مَرَّةً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا اور دوں گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بحرین کا مال آیا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس آدمی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرض ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سے وعدہ کیا ہو تو وہ میرے پاس آ جائے، پس میں ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا دوں گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو لے لے، پس میں نے لے لیا اور اس حصے کو پانچ سو درہم پایا، پھر جب میں ان کے پاس آیا تو انھو ں نے مجھے کچھ نہ دیا، پھر آیا تو کچھ نہ دیا، پھر جب تیسری بار آیا اور انھوں نے کچھ نہ دیا تو میں نے کہا: آپ یا تو مجھے دیں یا پھر بخل کرتے ہوئے مجھے منع کر دیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو کہتا ہے کہ میں بخل کرتا ہوں، بھلا بخل سے بڑی بیماری کون سی ہو سکتی ہے، جب بھی تو نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے تجھے دینے کا ارادہ کیا تھا، (لیکن دوسرے لوگوں کو زیادہ ضرورت مند پا کر ان کو دے دیا۔)
وضاحت:
فوائد: … بعد میں جب بھی بحرین سے مال آتا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پہنچ جاتے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے وعدہ بھی کر رکھا ہوتا تھا، لیکن سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کسی اور کو زیادہ محتاج سمجھ کر اس کو دے دیتے تھے، جبکہ حکمران کو اس مال کی تقسیم میںرد و بدل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5067
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2598، 3137، ومسلم: 2314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14352»
حدیث نمبر: 5068
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ فَقَسَمَ لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ قَالَ أَبِي قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَقَسَمَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چھوٹا سا مشکیزہ لایا گیا، اس میں موتی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد خاتون اور لونڈی میں تقسیم کیا، سیدہ کہتی ہیں: میرے باپ بھی آزاد اور غلام کے لیے تقسیم کرتے تھے۔ یزید بن ہارون راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد خاتون اور لونڈی کے درمیان برابر برابر تقسیم کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5068
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2952 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25775»