کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5057
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِي بَدْأَتِهِ وَنَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِي رَجْعَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غزوے کے سفر کی) ابتداء میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
حدیث نمبر: 5058
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لَيْسَ فِي الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي التَّنُوخِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے شام میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو سعید بن عبد العزیز تنوخی سے زیادہ صحیح احادیث والا ہو۔
حدیث نمبر: 5059
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ صَامِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي الْبَدَائَةِ الرُّبْعَ وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدا میں ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں مال غنیمت کی تقسیم کی ایک اور استثنائی صورت بیان کی گئی ہے، جب لشکر ِ اسلام اپنی جہت کی طرف جا رہا ہوتا اور بیچ میں سے ایک سریّہ کو الگ کر کے گرد و نواح کے کسی علاقے کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ جو مالِ غنیمت لے کر آتے، اس کا چوتھاحصہ ان کو زائد دیا جاتا، باقی تین حصے تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیئے جاتے، اگر جہاد سے واپسی پر یہی صورت حال پیش آتی تو ایک تہائی حصہ زائد دیا جاتا، لیکن اس تیسرے یا چوتھے حصے سے پہلے خُمُس نکالا جائے گا ہے۔
حدیث نمبر: 5060
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَّلَ الرُّبْعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلُثَ وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جا رہے ہوتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے اور جب لوٹ رہے ہوتے تھے، اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو ایک تہائی حصہ زائد دیتے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زائد حصوں کو ناپسند کرتے اور فرماتے: چاہیے کہ قوی مؤمن، کمزوروں پر لوٹا دے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مجاہدین کو زائد حصے کی حرص نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے میں ان کو ایثار کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ کمزور جنگجوؤں کو بھی قوی مجاہدین کی طرح حصہ مل سکے۔ نیز اس حدیث کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو ان کے زائد جہاد اور محنت کی وجہ سے زائد حصے تو دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمنا یہ تھی کہ وہ لشکر ِ اسلام کے تمام افراد کو ترجیح دیتے ہوئے وصول نہ کریں، تاکہ سب کو برابر حصہ مل سکے۔
حدیث نمبر: 5061
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ بَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں زائد بھی دیا۔
حدیث نمبر: 5062
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَنْفُلُ فِي مَغَازِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے غزووں میں زائد حصہ دیا کرتے تھے۔