کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی¤یا مشکلات کو برداشت کیا
حدیث نمبر: 5055
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ قِصَّةَ إِغَارَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيِّ عَلَى سَرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتِنْقَاذِهِ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رِجَالَتِنَا سَلَمَةُ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، پھر انھوں نے عبدالرحمن فزاری کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مویشیوں پر ڈاکہ مارنے اور ان کے بچانے کا واقعہ ذکر کیا،سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج ابو قتادہ بہترین گھوڑ سوار اور سلمہ بہترین پیادہ ثابت ہوئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا، یہ ان کی زیادہ مشقت بہادری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے دیا۔
حدیث نمبر: 5056
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ قَالَ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي ضَعْهُ قَالَ فَوَضَعْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ قُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفَ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي قَالَ إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي قَالَ قُلْتُ قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي فَهُوَ لَكَ قَالَ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری، سو اس کو یہیں رکھ دے۔ پس میں نے اس کو رکھ دیا، پھر واپس لوٹ گیا اور میں نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے بندے کو دے دی جائے، جو میری طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہ کر سکے، اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے مجھے بلایا ، میں نے کہا: لگتا ہے کہ میرے بارے میں کوئی خاص حکم اترا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا، جبکہ یہ میری نہیں تھی، اب یہ مجھے ہبہ کر دی گئی ہے، لہذا اب یہ تیری ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس کہہ دیجئے کہ انفال، اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ بعض مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کو دوسرے مجاہدین سے زائد حصہ دے دے۔