کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
حدیث نمبر: 5046
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ وَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُرِيدُ أَنْ يُعِينَ صَاحِبَهُ الْمُشْرِكَ عَلَى الْمُسْلِمِ فَأَتَيْتُهُ فَضَرَبْتُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا وَاعْتَنَقَنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى فَوَاللَّهِ مَا أَرْسَلَنِي حَتَّى وَجَدْتُ رِيحَ الْمَوْتِ فَلَوْلَا أَنَّ الدَّمَ نَزَفَهُ لَقَتَلَنِي فَسَقَطَ فَضَرَبْتُهُ فَقَتَلْتُهُ وَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ وَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا فَرَغْنَا وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَسَلَبُهُ لَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قَتَلْتُ قَتِيلًا وَأُسْلِبَ فَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ فَلَا أَدْرِي مَنِ اسْتَلَبَهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا سَلَبْتُهُ فَارْضِهِ عَنِّي مِنْ سَلَبِهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تُقَاسِمُهُ سَلَبَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَأَخَذْتُهُ مِنْهُ فَبِعْتُهُ فَاشْتَرَيْتُ بِثَمَنِهِ مَخْرَفًا بِالْمَدِينَةِ وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ اعْتَقَدْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر، ایک مشرک آدمی چاہتا تھا کہ وہ مسلمان کے خلاف اپنے مشرک ساتھی کی مدد کرے، لیکن اُدھر سے میں آیا اور اس کے ہاتھ پر ضرب لگا کر اس کو کاٹ دیا، اس نے دوسرے ہاتھ سے مجھے اس طرح پکڑا جیسے معانقہ کرتے ہیں، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا، یہاں تک کہ میں نے اس سے موت کی بو محسوس کر لی، اگر اس کا خون نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر دیتا، پھر وہ گر پڑا اور میں نے اس کو ضرب لگائی اور قتل کر دیا، پھر میں قتال کی مصروفیت کی وجہ سے اس کا سلب نہ لے سکا، اور اس کے پاس سے اہل مکہ کا ایک آدمی گزرا اور اس نے اس کا سلب لے لیا، پس جب ہم فارغ ہوئے اور لڑائی ختم ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی شخص کو قتل کیا، اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے، لیکن پھر لڑائی میں مصروف ہو گیا، اب میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سلب لے لیا ہے، اہل مکہ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، میں نے اس کا سلب لے لیا ہے، تو آپ اس کو میری طرف سے راضی کر دیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف قصد کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے اور پھر تو اس کا سلب تقسیم کرتا ہے، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر سچ کہہ رہے ہیں، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس سے وہ سامان لیا اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے مدینہ منورہ میں ایک باغ خریدا، یہ پہلا مال تھا، جس کا میں مالک بنا تھا۔
حدیث نمبر: 5047
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی کسی کو قتل کرنے میں اکیلا ہو تو اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 5048
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سُلْبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِشْرِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔
حدیث نمبر: 5049
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا غَزْوَةً إِلَى طَرَفِ الشَّامِ فَأُمِّرَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَانْضَمَّ إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْيَرَ فَأَوَى إِلَى رَحْلِنَا لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ إِلَّا سَيْفٌ لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ غَيْرُهُ فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَلَمْ يَزَلْ يَحْتَالُ حَتَّى أَخَذَ مِنْ جِلْدِهِ كَهَيْئَةِ الْمِجَنِّ حَتَّى بَسَطَهُ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ وَقَدَ عَلَيْهِ حَتَّى جَفَّ فَجَعَلَ لَهُ مُمْسِكًا كَهَيْئَةِ التُّرْسِ فَقُضِيَ أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فِيهِمْ أَخْلَاطٌ مِنَ الرُّومِ وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ وَسَرْجٍ مُذَهَّبٍ وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ ذَهَبًا وَسَيْفٌ مِثْلُ ذَلِكَ فَجَعَلَ يَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ وَيُغْرِي بِهِمْ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ يَحْتَالُ لِذَلِكَ الرُّومِيِّ حَتَّى مَرَّ بِهِ فَاسْتَقْفَاهُ فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ ضَرْبًا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْفَتْحَ أَقْبَلَ يَسْأَلُ لِلسَّلَبِ وَقَدْ شَهِدَ لَهُ النَّاسُ بِأَنَّهُ قَاتِلُهُ فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِهِ وَأَمْسَكَ سَائِرَهُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَحْلِ عَوْفٍ ذَكَرَهُ فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَلْيُعْطِكَ مَا بَقِيَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ فَمَشَى عَوْفٌ حَتَّى أَتَى خَالِدًا فَقَالَ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ قَالَ خَالِدٌ اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ قَالَ عَوْفٌ لَئِنْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَهُ عَوْفٌ فَاسْتَعْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا خَالِدًا وَعَوْفٌ قَاعِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكَ يَا خَالِدُ أَنْ تَدْفَعَ إِلَى هَذَا سَلَبَ قَتِيلِهِ قَالَ اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ادْفَعْهُ إِلَيْهِ قَالَ فَمَرَّ بِعَوْفٍ فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِهِ فَقَالَ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكِي أُمَرَائِي إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَخَيَّرَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَةَ الْمَاءِ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے شام کی طرف ایک غزوہ کیا، (یہ ۸ ھ میں لڑا جانے والا غزوۂ موتہ تھا)، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے، حمیر قبیلے کے اعوان و انصار میں سے ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ مل گیا، وہ ہماری رہائش گاہ میں آگیا اور اس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں تھا، ایک مسلمان نے اونٹ نحر کیے، وہ آدمی حیلے بہانے کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے ان اونٹوں کے چمڑے سے ڈھال کی طرح کی ایک چیز بنائی، پھر اس کو زمین پر بچھایا اور اس پر آگ جلائی، یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی، پھر اس نے ڈھال کی طرح کا اس کو دستہ لگا دیا، پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہمارا دشمنوں سے مقابلہ شروع ہو گیا، ہمارا دشمن رومیوں اور عرب کے بنو قضاعہ قبیلے کے افراد پر مشتمل تھا، انھوں نے ہم سے بڑی سخت لڑائی لڑی، رومیوں میں ایک جنگجو ایسا تھا کہ وہ سرخ رنگ کے گھوڑے پر سنہری زین رکھ کر اس پر سوار تھا، اس گھوڑے کا تنگ بھی سونے سے لت پت تھا اور اس کی تلوار بھی ایسے ہی سنہری تھی، اس نے مسلمانوں پر حملہ کرنا اور لڑائی کی آگ بھڑکانا شروع کی، حمیر قبیلے کا یہ آدمی اس رومی کے لیے حیلے بہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو یہ اس کے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ کا گھٹنا کاٹ دیا، پس وہ گھوڑا گر پڑا اور وہ شخص اس رومی پر تلوار کے ساتھ چڑھ دوڑا اور اس کوقتل کر دیا، جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو وہ شخص سلب کا سوال کرنے لگا، جبکہ لوگ اس کے حق میں یہ گواہی دے رہے تھے کہ واقعی اس نے اس کو قتل کیا ہے، لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور باقی روک لیا، پھر جب وہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کی رہائش گاہ کی طرف لوٹا اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے کہا: تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ جا، ان کو چاہیے کہ باقی حصہ بھی تجھے دے دیں، پس وہ لوٹ کر تو گیا، لیکن انھوں نے اس کو باقی حصہ دینے سے انکار کر دیا، پس سیدنا عوف رضی اللہ عنہ خود چل کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی،کیوں نہیں، مجھے پتہ ہے، انھوں نے کہا: تو پھر تجھے اس کو اس کے مقتول کا سلب دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: دراصل میں نے اس حصے کو بہت زیادہ سمجھا ہے (اور سارے کا سارا اس کو نہیں دیا)، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ دیکھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور ضرور بتلاؤں گا، پھر جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بھیجا اور اس نے جا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! کس چیز نے تجھے اس شخص کو اس کا سلب دینے سے روکا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس سلب کو زیادہ سمجھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو دے دے۔ جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انھوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی چادر گھسیٹی اور کہا: میں نے جو بات تم کو کہی تھی، اب میں نے اس کو تیرے لیے پورا کر دیا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سیدنا عوف رضی اللہ عنہ ) کا یہ طعن سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! تو اس کو نہ دے، کیا تم میرے امراء کو میرے لیے چھوڑنے والے ہو، میری اور میرے امراء کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس کو اونٹ یا بکریاں چرانے کا کہا گیا، پس اس نے ان کو چرایا، پھر اس نے ان کو پانی پلانے کا وقت مقرر کیا اور ان کو حوض پر لے آیا، پس انھوں نے پانی پینا شروع کیا اور سارا صاف پانی پی گئے اور گدلا پانی رہ گیا، (ایسے سمجھو کہ) میرے امراء کا صاف پن تمہارے لیے ہے اور گدلا پن ان پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ غزوۂ موتہ کا واقعہ ہے، جو ۸ ھ میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 5050
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَغَطَفَانَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ شَيْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ الْبَعِيرَ ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى قَالَ فَنَظَرَ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ قِلَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو قَالَ فَأَتَى بَعِيرَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ قَالَ فَخَرَجَ يَرْكُضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ قَالَ إِيَاسٌ قَالَ أَبِي فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ قَالَ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ قَالَ وَلَحِقْتُهُ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ وَتَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَقُلْتُ لَهُ إِخْ فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن اور غطفان کے ساتھ جہاد کیا، ہم ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اونٹ کے تنگ میں سے کوئی چیز نکالی اور اس کے ساتھ اپنے اونٹ کو باندھا، پھر آیا اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے لگا، اس نے ہمارے لوگوں کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہمارے سوار تھوڑے ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل ہیں، یہ جائزہ لے کر وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس گیا اور اس پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے لگا، یہ دراصل کافروں کا جاسوس تھا، بنواسلم قبیلے کا ایک آدمی اپنی سیاہی نما اونٹنی پر سوار ہوا اور اس کا پیچھا کیا، سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنی ٹانگوں پر دوڑا، اس آدمی کی اونٹنی کا سر جاسوس کے اونٹ کے پچھلی ٹانگ تک پہنچ چکا تھا، پیچھے سے میں بھی ملا جا رہا تھا اور اس کی اونٹنی کی پچھلی ٹانگ کے برابر تک پہنچ چکا تھا، میں اور آگے بڑھا اور جاسوس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے برابر ہو گیا، پھر میں اور آگے بڑھا اور اونٹ کی لگام پکڑ لی اور اس کو بیٹھنے کی آواز دی، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس کے سر پر ماری اوروہ گر پڑا، پھر میں اونٹنی لے کر واپس آ گیا، آگے سے کچھ لوگوں سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سلب اس کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اِخْ اونٹ کو بٹھانے کی آواز ہے، جیسے ہمارے ہاں ہُش ہُش کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5051
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتِيلٍ فَلَهُ سَلَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مقتول پر دلیل قائم کر دی تو اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔
حدیث نمبر: 5052
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ وَدِرْعَهُ فَبَاعَهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔
حدیث نمبر: 5053
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ دَعُوهُ وَسَلْبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے مقتول کے پاس موجود تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور اس کے سلب کو چھوڑ دو۔
حدیث نمبر: 5054
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلْبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلب میں سے خمس وصول نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں سلب کا بیان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مقتول کافر سے چھینا ہوا مال قاتل مسلمان کا حق ہو گا اور اس حق میں سے خُمُس بھی نہیں لیا جائے گا، لیکن ایسی صورت میں مجاہد سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا کہ واقعی اس نے قتل کیا ہے۔