کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5037
عَنْ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى الْفَرَسَ سَهْمَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ہمارے ساتھ ایک گھوڑا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ہرآدمی کو ایک حصہ اور گھوڑے کے دو حصے دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5037
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17371»
حدیث نمبر: 5038
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا وَأُمَّهُ سَهْمًا وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود زبیر کو ایک حصہ، اس کی ماں کو ایک حصہ اور اس کے گھوڑے کے دو حصے دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5038
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1425»
حدیث نمبر: 5039
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ رکھا۔ ابو معاویہ راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے کل تین حصے رکھے، ایک آدمی کا اور دو اس کے گھوڑے کے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو اس کے خاص حصے کے علاوہ گھوڑے کی وجہ سے دو مزید حصے دیئے۔ ان دو حصوں کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑے کا خرچ زیادہ ہے اور گھوڑ سوار پیدل سے کئی گنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2863، 4228، ومسلم: 1762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4448»
حدیث نمبر: 5040
عَنْ مَجْمَعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُدْخِلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کو اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ کسی اور کو شامل نہیں کیا، بس صرف وہی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے اٹھارہ حصے بنائے، لشکر کی تعداد پندرہ سو(۱۵۰۰) تھی، ان میں تین سو گھوڑ سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو دو حصے دیئے اور پیادہ کو ایک۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5040
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، يعقوب بن مجمع بن جارية، وان كان حسن الحديث، انفرد به، وقد خولف فيه، أخرجه ابوداود: 2736، 3015 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15549»
حدیث نمبر: 5041
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ وَفِي رِوَايَةٍ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت میں سے عورت اور غلام کو اتنا حصہ دیتے تھے، جتنا لشکر والے افراد کو ملتا تھا، لیکن ایک روایت میں ہے: لشکر والے افراد سے کم حصہ عورت اور غلام کو دیا جاتاتھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5041
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2929»
حدیث نمبر: 5042
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ وَفِينَا مَمْلُوكَانِ فَلَا يُقْسَمُ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بات یہ ہے کہ غلاموں کا مالِ غنیمت میں معین حصہ نہیں ہے، امیرِ لشکراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24461»
حدیث نمبر: 5043
وَعَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ رَضَّخَ لَنَا مِنَ الْفَيْءِ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنوغفار کی ایک خاتون سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے تھوڑی مقدار میں عطیے دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5043
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة امية بنت ابي الصلت ، ثم انه قد اختلف فيه علي سليمان، أخرجه ابوداود: 313 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27677»
حدیث نمبر: 5044
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدْ كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِصَالٍ مِنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … جو خواتین، مجاہدین کی خدمت کے لیے لشکر ِ اسلام میں شرکت کرتی ہیں، مجاہد کی طرح ان کا حصہ معین نہیں ہے، امیر لشکر اپنی مرضی سے ان کو عطیہ دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5044
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1812 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2811»
حدیث نمبر: 5045
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي فَقَلَّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مالِ غنیمت کا خُمُس تو امام لے لے گا، باقی چار حصے مجاہدین میں اس طرح تقسیم کے جائیں گے کہ گھوڑ سوار مجاہد کو کل تین حصے دیئے جائیں گے اور پیدل کو ایک حصہ، یعنی گھوڑے کی وجہ سے دو حصے زیادہ دیئے جائیں گے، لیکن ان حصوں کی تقسیم سے پہلے شرکت کرنے والے غلاموں اور خواتین کو بطور ِ عطیہ و حوصلہ افزائی مالِ غنیمت کی کچھ مقدار دی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5045
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2730،والترمذي: 1557، وابن ماجه: 2855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22286»