کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 5028
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَتِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابو درداء اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا ذکر کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عبادہ: فلاں فلاں غزوے میں خمس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کے دوران ہمیں نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس مالِ غنیمت کا ایک اونٹ تھا، جس کو ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے،اپنے دو پوروں میں اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: یہ بال بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہیں اور اس مال میں تمہارے ساتھ میرا حصہ نہیں ہے، مگر خمس، اور وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں، سب کچھ ادا کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ خمس دراصل بیت المال میںجمع ہو جاتا ہے اور وہاں سے یہ مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5028
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23157»
حدیث نمبر: 5029
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ الْمَغَانِمَ تُجْزَأُ خَمْسَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ يُسْهَمُ عَلَيْهَا فَمَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَهُ يَتَخَيَّرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ غنیمتوں کے پانچ حصے بنائے جاتے تھے، پھر ان کے حصے بنائے جاتے تھے، جو حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوتا تھا، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود منتخب کرتے تھے، (یعنی جس کو چاہتے دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5029
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه ابوداود: 2992، 2993 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5397»
حدیث نمبر: 5030
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ قَالَ كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خمس کا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک آدمی کو سواری دیتے، پھر ایک آدمی کو دیتے اور پھر ایک آدمی کو دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5030
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 435 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14994»
حدیث نمبر: 5031
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ قَالَ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مقام کی وجہ سے، جو ان سے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5031
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3140، 3502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16862»
حدیث نمبر: 5032
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) جَاءَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَيْنٍ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَى هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَيْئًا وَاحِدًا قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جبیر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرنے کے لیے آئے، اس بات کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کا خمس بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب اور بنو عبد مناف میں مال تقسیم کیا ہے، لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا، جبکہ آپ سے ہماری اور ان کی رشتہ داری ایک جیسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہاشم اور مطلب کو ایک چیز خیال کرتا ہوں۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ بنو نوفل سے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنو عبدشمس سے تھے، جبکہ عبد شمس، نوفل، ہاشم اور مطلب سب بنو عبد مناف ہونے کی وجہ سے برابر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو بنو ہاشم سے تھے، لیکن بنو مطلب کی جو رشتہ داری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھی، وہی قرابت بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو حاصل تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عباس کو اس وجہ سے فضیلت وبرتری دی اور ان کو اور بنو ہاشم کو ایک چیز قرار دیا کہ بنو عباس نے بنو ہاشم کی تائید و نصرت کی ہے، دورِ جاہلیت میں بھی اور اس کے بعد بھی، جبکہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل، بنو ہاشم سے الگ رہے ہیں، بلکہ ان سے لڑائیاں بھی لڑی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16904»
حدیث نمبر: 5033
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ لِعَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا كَانَ يَقْسِمُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعْطِيهِمْ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا اور یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کی طرح خمس کو تقسیم کیا کرتے تھے، البتہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابتداروں کو اس طرح نہیں دیتے تھے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیتے تھے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر برابر تقسیم کر دیتے تھے، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حاجت کے مطابق کسی کو کم دیتے تھے اور کسی کو زیادہ)، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس مال کا بعض حصہ ان کو دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 4229، وأبوداود!: 2979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16890»
حدیث نمبر: 5034
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَاكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ابو لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، جبکہ مجھ پر کلفت اور بوجھ زیادہ ہے، اس لیے اگر آپ میرے لیے اتنے اتنے وسق اناج کا حکم دینا مناسب سمجھتے ہیں تو دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! جیسے آپ نے اپنے چچا جان کے لیے حکم دیا ہے، اسی طرح اگر میرے لیے مناسب سمجھتے ہیں تو حکم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسا بھی کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، میری معیشت کا انحصار اسی پر تھا، لیکن پھر آپ نے مجھ سے لے لی ہے، اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو وہ زمین مجھے واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہم کریں گے۔ پھر میں (علی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خمس کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے، میں ہی آپ کی زندگی میں اس کی تقسیم کروں، تاکہ کوئی شخص آپ کے بعد یہ حق ہم سے چھین نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا ذمہ دار بنا دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ حق میرے ہی سپرد کیے رکھا اور میں ان کی خلافت میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے اس کا والی بنایا اور میں ان کی خلافت میں تقسیم کرتا رہا، یہاں تک کہ ان کے دورِ خلافت کا آخری سال شروع ہو گیا، اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5034
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسين بن ميمون الخندفي الكوفي ليس بمعروف قلّ من روي عنه، وقال ابوزرعة: شيخ، وقال ابو حاتم: ليس بقوي في الحديث، يكتب حديثه، أخرجه ابوداود: 2983، 2984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 646»
حدیث نمبر: 5035
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید بن ہرمز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نجدہ حروری نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت سے خروج کیا تو اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے قرابتداروں کے حصے کے بارے میں سوال کیا کہ ان کے علم کے مطابق وہ کس کو دیا جائے گا، انھوں نے کہا: وہ ہمارے لیے ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حصے کو ہم لوگوں میں تقسیم کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال میں کچھ حصہ ہمیں دیا اور ہم نے اس کو اپنے حق سے کم خیال کیا تو ہم نے ان کو واپس کر دیا اور قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو حصہ ان پر پیش کیا تھا، اس کی تفصیل یہ تھی کہ وہ نکاح کرنے والے کا تعاون کریں گے، ان کے قرض داروں کا قرضہ ادا کریں گے اور ان کے فقیر لوگوں کو دیں گے، انھوں نے اس سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے شروع والے حصے کی وضاحت یہ ہے: خوارج کی ایک جماعت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حامی بن کر ان کا دفاع کرتی رہی، جب ان کی خلافت مضبوط ہوئی تو اس وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا کہ ان کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے کا علم نہیں تھا، جب انھوں نے ان
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1812 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2941»