کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5027
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے اپنے کمزوروں کو تلاش کر کے لاؤ۔ کیونکہ تم لوگوں کو صرف اپنے ضعیفوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ ان ضعفاء کو رزق دینا چاہتا ہے اور ان کا بھلا کرنا چاہتا ہے،مگر چونکہ وہ تمہارے محتاج ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ انھیں رزق پہنچانے کے لیے تمہیں بھی رزق دے دتیا ہے اور ان کے بھلے کے لیے تمہاری مدد بھی کرتا ہے۔