کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
حدیث نمبر: 5001
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھوٹے بچے، یا بوڑھے آدمی کو قتل کیا، یا کھجوروں کے درخت جلائے، یا پھل دار درخت کاٹے اور چمڑے کی خاطر بکری کو ذبح کر دیا تو وہ اس جہاد سے برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ضرورت و مصلحت کے پیش نظر درختوں اور دیگر سامان کو جلا کر دشمن کے علاقے میں تخریب کاری کی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5002
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ قَالَ قَالَ أَلَا وَإِنَّ الْمُثْلَةَ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُمَ أَنْفَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے اور فرماتے: خبرادار! یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں سوراخ کرے گا یا اس کو پھاڑے گا۔
حدیث نمبر: 5003
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے بھی تھے اور جلائے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 5005
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجَّهَهُ وَجْهَةً فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أَبْنَاءِ صَبَاحًا ثُمَّ أُحَرِّقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک طرف بھیجا تھا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں کون سی نصیحت کی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ میں اَبْنٰی بستی پر صبح کے وقت حملہ کروں اور پھر جلادوں۔
حدیث نمبر: 5006
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا أَبْنَاءُ فَقَالَ ائْتِهَا صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اَبْنٰی نامی ایک گاؤں کی طرف بھیجا تھا اور فرمایا تھا: تم صبح کے وقت وہاں جانا اور اس کو جلا دینا۔
حدیث نمبر: 5007
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةَ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذو خلصہ سے راحت نہیں پہنچاتے؟ یہ خثعم قبیلے کا ایک گھر تھا، اس کو کعبۂ یمانیہ کہا جاتا تھا، میں احمس قبیلے کے ایک سو ستر گھوڑ سوار لے کر اس کی طرف گیا، وہ وہاں گئے اور آگ لگا کر اس کو جلا دیا، پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک خوشخبری دینے والا بھیجا اور اس نے آ کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس گھر کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپ کو خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احمس قبیلے کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے پانچ بار برکت کی دعا کی۔
وضاحت:
فوائد: … ذوخلصہ گھر کے اندر ایک بت بھی تھا، اس کا نام خلصہ تھا۔
حدیث نمبر: 5008
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پا لو تو ان کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پھر جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو فلاں فلاں آدمیوں کو آگ کے ساتھ جلا دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ آگ کے ساتھ عذاب دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اگر تم ان کو پا لو تو ان کو قتل کر دینا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دو آدمی ہبار بن اسود اور نافع بن عبد قیس تھے، اول الذکر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گیا اور آخر الذکر کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5009
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُذْرَةَ فَقَالَ إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَى فُلَانٍ فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا تَوَارَوْا مِنْهُ نَادَاهُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِي أَثَرِهِمْ فَرَدُّوهُمْ ثُمَّ قَالَ إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَإِنَّمَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک لشکر سمیت عُذرہ قبیلے کے ایک آدمی کی طرف بھیجا اور فرمایا: اگر تم نے فلاں پر غلبہ پا لیا تو اس کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پس وہ چل پڑے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوجھل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس بلا لیا اور پھر فرمایا: اگر تم نے اس آدمی پر غلبہ پا لیا تو اس کو قتل کرنا، آگ کے ساتھ جلانا نہیں ہے، کیونکہ آگ کا ربّ ہی ہے، جو آگ کے ذریعے عذاب دے سکتا ہے۔