کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
حدیث نمبر: 4988
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ نُصَبِّحُهَا لِلْغَارَةِ فَنُصِيبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَيْلِ وَلَا نَشْعُرُ فَقَالَ إِنَّهُمْ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ایسی صورت میں بچوں کوقتل کیا جا سکتا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ قصداً مشرکوںکے بچوں کو قتل کرنا جائز ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مشرکوں تک پہنچتے پہنچتے بیچ میں بچے روند دیئے جائیں، یا شب خون کی صورت میں ان کا پتہ نہ چلے اور وہ بیچ میں قتل ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4988
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1825، 2563، ومسلم: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16806»
حدیث نمبر: 4989
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيَّتْنَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ہوازن پر رات کو حملہ کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4989
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16611»
حدیث نمبر: 4990
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر رات کو حملہ کر دے اور بیچ میں مشرکوں کے بچے بھی رگڑے جائیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بچے اپنے آباء میں سے ہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4990
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16538»
حدیث نمبر: 4991
عَنِ الْمُهْلَبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَرَاهُمُ اللَّيْلَةَ إِلَّا سَيُبَيِّتُونَكُمْ فَإِنْ فَعَلُوا فَشِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مہلب بن ابو صفرہ، ایک صحابی ٔ رسول (سیدنا براء بن عازب) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال یہی ہے کہ وہ لوگ (یعنی ابو سفیان اور اس کی قوم) رات کو تم پر حملہ کر دیں گے، اگر ایسے ہوا تو تمہارا شعار یہ ہو گا: {حم لَا یُنْصَرُوْنَ}۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4991
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2597، والترمذي: 1682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23591»
حدیث نمبر: 4992
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ فَقَالَ هُمْ مِنْهُمْ ثُمَّ يَقُولُ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَهَى عَنْ ذَلِكَ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکوں کے ان گھروں کے بارے میں سوال کیا گیا، جن پر رات کو حملہ کیا جاتا ہے اور اس طرح ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل کر دیئے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان میں سے ہی ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں: لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب میں ان افراد کا ذکر ہے، جن کو قتل کرنا منع ہے، اِس باب کی احادیث کا تعلق ضرورت سے ہے، یعنی جب مشرکین تک پہنچنا ان کے بچوں کو قتل یا روندے بغیر ممکن نہ ہو، یا وہ جنگ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو پھر بچوںکی کوئی پروا نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4992
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1825، 2563، ومسلم: 1193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16790»