کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4973
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَمِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند ، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے مثال کے طور پر جب آدمی اپنے محرم رشتہ داروں میں کوئی حرام فعل دیکھتا ہے تو اس پر اس کو غیرت آتی ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح بدنام لوگوں سے میل جول رکھنا، مے خانوں اور جوا خانوں میں بیٹھنا، غیر محرم عورتوں کے ساتھ تنہائی اور خلوت اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 4974
قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوُّ فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ فَقَالَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ قَالَ مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ فَسَمِعَ ذَلِكَ آخَرُ فَقَالَ مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا بَأْسَ أَنْ يُحْمَدَ وَيُؤْجَرَ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ أَنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قیس بن بشر تغلبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بتایا، جبکہ وہ سیدنا ابو درداء کے ہم نشیں تھے، انھوں نے کہا: دمشق میں ایک صحابی تھا، اس کو ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، یہ خلوت پسند آدمی تھا اور لوگوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتا تھا، بس ہر وقت نماز میں لگا رہتا، جب اس سے فارغ ہوتا تو تسبیح و تکبیر شروع کر دیتا، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جاتا، ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرا، جبکہ ہم سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اسے کہا کہ ایک ایسی بات بتائیں، جو ہمیں فائدہ دے اور تجھے نقصان نہ دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا، پس جب میں پہنچا تو اس سریہ میں سے ایک آدمی بھی پہنچ گیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: اس کے بارے میں تیرا خیال ہے کہ ہماری دشمن سے ٹکر ہو جاتی ہے، فلاں مسلمان آدمی حملہ کرتا ہے اور نیزہ مارتے ہوئے کہتا ہے: یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں، اس کی اس بات کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ اس نے اپنے اجر کو ضائع کر دیا ہے، لیکن جب تیسرے آدمی نے بات سنی تو اس نے کہا: ایسا کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، ان کا تو اس میں جھگڑا ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات سن لی اور فرمایا: بڑا تعجب ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی کی تعریف بھی کی جائے اور اس کو اجر بھی دیا جائے۔ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابو درداء کو اس بات سے خوشی ہوئی اور وہ اس آدمی کی طرف سر اٹھا کر دیکھنے لگے اور پوچھا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اس بات کو دوہراتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے اس بات کو اتنی بار دوہرایا کہ میں نے کہا: وہ ضرور ضرور اس کے گھٹنوں پر ٹیک لگا دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ تھا کہ مارنے والے کا ان الفاظ یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں سے مقصود یہ ہو کہ لوگ اس کی تعریف کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب سے معلوم ہوا کہ جہاد میں ایسے امور کی گنجائش ہے، تاکہ مجاہدین بہادری کا مظاہرہ کر سکیں، جیسا کہ فخر کی بعض صورتوں کو جہاد میں جائز قرار دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4975
عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ إِذْ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ الْحَرُورِيَّةَ فَقُلْتُ لِكَاتِبِهِ وَكَانَ لِي صَدِيقًا انْسَخْهُ لِي فَفَعَلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَيَنْظُرُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَهَدَ إِلَى عَدُوِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ کی طرف ایک خط لکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس نے حروریہ یعنی خوارج سے لڑنا چاہا تھا، اس کا کاتب میرا دوست تھا، میں نے اس سے کہا: تو اس کو میرے لیے بھی حرف بہ حرف لکھ، اس نے ایسے ہی کیا، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے لڑنے کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو، ہاں جب ان سے ٹکر ہو جائے تو پھر صبر کیا کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو دشمن کی طرف کھڑے ہوتے اور یہ دعا کرتے: اَللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔(اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔)
حدیث نمبر: 4976
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا وَفِي لَفْظٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے ملنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کیا ہو گا (اس لیے تمنا نہ کیا کرو)۔
وضاحت:
فوائد: … یقینا جہاد باعث ِ اجر و ثواب ہے، لیکن مشکل اور آزمائش والا عمل ہے، لشکر ِ اسلام کو فتح بھی ہو سکتی ہے اور شکست بھی، پھر شکست کی کئی صورتیں ہیں، اس لیے دشمن سے لڑنے کی تمنا نہیں ہونی چاہیے، ہاں جب جنگ چھڑ جائے تو پھر ہر قسم کے خطرے کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں اترا جائے۔
حدیث نمبر: 4977
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوِ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے حائل ہوتا ہوں، تیری توفیق سے حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق سے لڑتا ہوں۔)
وضاحت:
فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو