کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
حدیث نمبر: 4963
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفْرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات کے علاوہ کسی اور دن کم ہی نکلتے تھے۔
حدیث نمبر: 4964
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر جمعرات کے دن نکلے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حسب ِ امکان اس سنت پر عمل کرنا چاہیے، اگر کوئی مانع ہو تو کسی دوسرے دن میں بھی سفر کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہفتہ کے روز سفر شروع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4965
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔
وضاحت:
فوائد: … دن کے شروع میں کیے گئے کام میں برکت ہو تی ہے، جہاں یہ مستعدی کا وقت ہوتا ہے، وہاں دن کا سب سے لمبا پیریڈ بھی یہی ہوتاہے، غور کریں کہ آج کل عام لوگ گیارہ بارہ بجے اپنے کاروبار وغیرہ کا آغاز کرتے ہیں، نو دس بجے تو عام لوگوں کا معمول ہے، جبکہ سردیوں کے موسم میں نماز فجر سے دس بجے تک پانچ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں اور موسم گرما میں تو دس بجے تک سات آٹھ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں، اتنا لمبا پیریڈ دن کے کسی اور حصے میں ہاتھ نہیں آتا، جبکہ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت بھی پڑ رہی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 4966
عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهِمْ)) قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُ مَالَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی سریّہ بھیجتے تو اس کو دن کے شروع والے حصے میں بھیجتے۔ سیدنا صخر رضی اللہ عنہ خود تاجر آدمی تھے، وہ اپنے لڑکوں کو صرف دن کے شروع میں بھیجا کرتے تھے، پس ان کا مال اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ نہ جان سکتے کہ اپنا مال کہاں رکھیں۔
حدیث نمبر: 4967
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَنْهَضَ إِلَى عَدُوِّهِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوالِ آفتاب کے وقت دشمن سے لڑائی کا آغاز کرنے کو پسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4968
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو عامل بنایا، … پھر باقی حدیث ذکر کی … ، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے شروع میں قتال نہ کرتے تو پھر لڑائی کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوائیں چل پڑتیں اور تائید و نصرت کا نزول شروع ہو جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑا ہی مستعدی کا وقت ہوتا ہے، مجاہد ہی یہ کیفیت بیان کر سکتا ہے، لیکن اس وقت کا انتخاب بھی تب ہی کیا جائے گا، جب لشکرِ اسلام کے امیر کی مرضی ممکن ہو گی اور کوئی مانع بھی نہ ہو، وگرنہ جب دشمن جنگ چھیڑیں گے یا کسی دوسرے وقت میں لڑنے کی بڑی مصلحت نظر آ رہی ہو گی، تو اسی وقت ان سے لڑا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر رات کو حملہ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4969
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَعِيَ مَعِيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بدر والے دن صفیں بنائیں، کچھ لوگ صف سے آگے بڑھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہو (یعنی آگے نہ بڑھو)۔
وضاحت:
فوائد: … لشکر کی ہر قسم کی ترتیب میں امام اور امیر کی پیروی کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 4970
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ، فَقُلْتُ: أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ، قَالَ: قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عقبہ بن مغیرہ اپنے باپ کے دادا مخارق سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، تاکہ تمہارے ساتھ رہوں، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 4971
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا وَإِنَّ شِعَارَكُمْ {هُمْ لَا يُنْصَرُونَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بیشک تم کل دشمنوں سے ملنے والے ہو، تمہارا شعار یہ ہو گا: {ھُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ}۔
وضاحت:
فوائد: … شعار وہ علامت ہے، جس کے ذریعے شبہ پڑ جانے کی صورت میں مجاہد دورانِ جنگ اپنے لشکر کے
افراد کو پہچان سکتا ہے۔
افراد کو پہچان سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4972
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِي هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمِتْ أَمِتْ وَقَتَلْتُ بِيَدَيَّ لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةً أَهْلَ أَبْيَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے جس رات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا تھا، اس دن ہمارا شعار أَمِتْ أَمِتْ (تو مار دے،، تو مار دے) تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا تھا اور میں نے اس دن اپنے ہاتھوں سے سات افراد کو قتل کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … أَمِتْ أَمِتْ کے الفاظ شعار ہیں، اگر ان کا مخاطَب اللہ تعالیٰ ہو تو یہ دشمنوں کے حق میں بد دعا بھی ہوں گے اور اگر ان کا مخاطَب مجاہد ہو تو ان سے لڑنے کی مزید رغبت پیدا ہو گی۔