کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4951
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكْتُفَهُ عَلَى رَاحِلَةٍ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والے کو الوداع کہوں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کروں، اس کی روانگی کے وقت یا اس کی واپسی کے وقت تو یہ مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ پسند ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4951
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه ابن ماجه: 2824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15728»
حدیث نمبر: 4952
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا، ہم دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے لیے گئے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ سفیان راوی نے ایک بار کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آنا یاد ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس لوٹے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4952
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3083، 4426، 4427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15812»
حدیث نمبر: 4953
قَالَ صَفْوَانُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، قَالَ: ((سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تُقَاتِلُونَ أَعْدَاءَ اللَّهِ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ عَلَى طُهُورٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں چلو، اللہ کے دشمنوں سے لڑو، نہ خیانت کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو، مسافر تین دنوں تک اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، جبکہ اس نے وضو کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور مقیم ایک دن رات تک ان پر مسح کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 2857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18266»
حدیث نمبر: 4954
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّهَهُمْ، وَقَالَ: ((انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ)) يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد تک ان کے ساتھ چلے، پھر ان کو الوداع کہا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام پر چلو، اے اللہ! ان لوگوں کی مدد فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ لوگ تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4954
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11554، والبزار: 1801، والحاكم: 2/ 98 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2391»
حدیث نمبر: 4955
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ، قَالَ: ((اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ، تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے اللہ کی راہ میں لڑو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو اور نہ بچوں اور گرجاگھروں والوں کو قتل کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4955
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البزار: 1677، والطبراني: 11562، والبيھقي: 9/ 90 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2728»
حدیث نمبر: 4956
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4956
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8556»
حدیث نمبر: 4957
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تلوار کو میان سے نکال کر پکڑا جائے (تاکہ کسی کو لگ نہ جائے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4957
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2588، والترمذي: 2163 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14250»
حدیث نمبر: 4958
عَنْ حَشْرَجَ بْنِ زِيَادٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةِ خَيْبَرَ، وَأَنَا سَادِسَةُ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعَهُ نِسَاءً، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا (وَفِي لَفْظٍ: فَدَعَانَا قَالَتْ: فَرَأَيْنَا فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ) فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَكُنَّ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟)) فَقُلْنَا: خَرَجْنَا نُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي النَّاسَ السَّوِيقَ، وَمَعَنَا مَا نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: قُمْنَ فَانْصَرِفْنَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ، أَخْرَجَ لَنَا سِهَامًا كَسِهَامِ الرَّجُلِ (وَفِي لَفْظٍ: كَسِهَامِ الرِّجَالِ) قُلْتُ: يَا جَدَّةُ! مَا أَخْرَجَ لَكُنَّ قَالَتْ: تَمْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حشرج بن زیاد اشجعی اپنے دادی جان سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں غزوۂ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلی، جبکہ میں چھ خواتین میں سے چھٹی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں بھی جا رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلایا، ہمیں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے تم کو نکالا ہے اور کس کے حکم سے تم نکلی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہم خود نکلی ہیں، تاکہ مجاہدوں کو تیر پکڑا سکیں، لوگوں کو ستو پلا سکیں، ہم میں بعض خواتین زخمیوں کا علاج بھی کر سکتی ہیں اور بالوں کو بٹ کر اللہ کی راہ میں مدد کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خیبر کو فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح کا حصہ دیا، میں حشرج نے کہا: اے دادی جان! تمہیں حصے میں کیا دیا تھا؟ انھوں نے کہا: کھجور۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4958
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حشرج بن زياد، أخرجه أبوداود: 2729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22688»
حدیث نمبر: 4959
عَنْ رُبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ربیع بنت ِ معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں، جس میں ہم لوگوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمی لوگوں اور شہداء کو مدینہ منورہ میں منتقل کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4959
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2883، 5679 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27557»
حدیث نمبر: 4960
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أُدَاوِي الْمَرْضَى، وَأَقُومُ عَلَى جَرَاحَاتِهِمْ، فَأُخَلِّفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، أَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی، میں مریضوں کا دوا دارو کرتی، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی، مجاہدین کی رہائش گاہوں میں پیچھے رہتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4960
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27843»
حدیث نمبر: 4961
عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، وَقَدْ سَمَّاهَا لِي، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ إِلَى وَجْهِكَ هَذَا، وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى خَيْبَرَ، فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى، وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ: عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ، لَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، وَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي، فَكَانَتْ أَوَّلَ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى الدَّمَ، قَالَ: ((مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ، وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، رَضَخَ لَنَا مِنَ الْفَيْءِ، وَأَخَذَ هَذِهِ الْقِلَادَةَ الَّتِي تَرَيْنَ فِي عُنُقِي، فَأَعْطَانِيهَا وَجَعَلَهَا بِيَدِهِ فِي عُنُقِي، فَوَاللَّهِ، لَا تُفَارِقُنِي أَبَدًا، قَالَ: وَكَانَتْ فِي عُنُقِهَا حَتَّى مَاتَتْ، ثُمَّ أَوْصَتْ أَنْ تُدْفَنَ مَعَهَا، فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَةٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو غفار کی ایک خاتون (سیدہ ام زیاد اشجعی) سے مروی ہے، وہ کہتی ہے: میں بنو غفار کی چند خواتین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ اس طرف نکلنا چاہتی ہیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے، ہم زخمیوں کا علاج کریں گی اور حسب ِ استطاعت مسلمانوں کی مدد کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی برکت پر نکلو۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکل پڑیں، میں نو عمر لڑکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر پالان کے پچھلے حصے میں بٹھا لیا، اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت اترے، اونٹ کو بٹھایا اور میں بھی پالان کے پچھلے حصے سے اتر آئی، اچانک دیکھا کہ اس میں تو مجھ سے بہنے والا خون تھا، یہ میرا پہلا حیض تھا، میں گھبرا کر اونٹنی کی طرف کودی اور شرما گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ لگے ہوئے خون کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا، شاید تجھے ماہواری آ گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے آپ کو سنوار لے اور ایک برتن میں پانی لے، اس میں نمک ڈال اور پالان کو جو خون لگا ہے، اس کو دھو دے، پھر اپنی سواری پر بیٹھ جا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بھی مالِ فے میں تھوڑی مقدار والے عطیے دیئے، یہ جو ہار میری گردن میں نظر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ہار پکڑا اور مجھے دے دیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میری گردن میں ڈالا، اللہ کی قسم! اب یہ ہار مجھ سے کبھی بھی جدا نہیں ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کی موت تک یہ ہار ان کی گردن میں رہا، بلکہ انھوں نے وصیت کی تھی کہ اس ہار کو ان کے ساتھ دفن کیا جائے، نیز اس خاتون کو بعد میں جب بھی حیض آتا تھا تو اس سے پاکیزگی حاصل کرتے وقت وہ پانی میں نمک ڈالتی تھیں اور انھوں نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ ان کے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4961
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة امية بنت ابي الصلت، أخرجه ابوداود: 313 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27677»
حدیث نمبر: 4962
عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا، فَأَتَى عَلَى الْحَيِّ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِيَاعَتَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا، قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ، فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزًا لَهَا وَصِيصِيَتَهَا كَانَتْ تَنْسِجُ بِهَا، قَالَ: فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصِيَتَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ، وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصِيَتِي، وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصِيَتِي، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصِيَتُهَا وَمِثْلُهَا)) وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أُصَدِّقُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حُمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :طفاوہ قبیلے کے ایک آدمی کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا، وہ ایک قبیلے کے پاس آیا اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا: میں اپنے قافلے میں مدینہ منورہ گیا، وہاں اپنا سامان فروخت کیا، پھر میں نے کہا: میں ضرور ضرور اس آدمی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کروں گا، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا: بیشک ایک خاتون اس گھر میں رہتی تھی، وہ مسلمانوں کے ایک سریّہ میں چلی گئی اور گھر میں بارہ بکریاں اور کاتنے کا ایک تکلا چھوڑ کر گئی، وہ اس تکلے سے بننے کا کام کرتی تھی، جب وہ واپس آئی تو اس نے ایک بکری اور اس تکلے کو گم پایا، پھر اس نے کہا: اے میرے ربّ! جو آدمی تیرے راستے میں جاتا ہے، اس کی چیزوں کی حفاظت کی ضمانت تو خود لیتا ہے، اب میرے ایک بکری اور تکلا گم ہے، میں تجھے وہی وعدہ یاد کروا کر کہتی ہوں کہ میری بکری اور میرا تکلا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے مطالبے اور اپیل کی شدت کا ذکر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہوا یوں کہ اس کی بکری اور اس کی مثل ایک اور بکری اور اس کا تکلا اور اس کی مثل ایک اور تکلا اس کے پاس پہنچا دیئے گئے۔اور تو خود اس کے پاس جا اور اگر چاہتا ہے تو اس سے پوچھ لے۔ میں نے کہا: جی میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ مجاہد کو الوداع کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا، واپسی پر آگے جا کر ان کا استقبال کرنا اور لشکروں کو روانہ کرتے وقت امام اور حکمران کا جہاد سے متعلق ان کو پند ونصائح کرنا
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4962
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله الي حميد بن ھلال ثقات رجال الصحيح، وليس في النص ما يصرح بسماع حميد من الرجل الطفاوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20940»