کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4947
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ساتھی چار ہیں، بہترین سریّہ چارسو افراد کا ہے، بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار افراد کا لشکر محض تعداد کی قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ ساتھیوں، چھوٹے اور بڑے لشکروں کی کم از کم اتنی تعداد ہونی چاہیے، اگر زیادہ ہو جائے تو اور بہتر ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4947
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2611، والترمذي:1555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2682»
حدیث نمبر: 4948
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ وَسَأَلْتُ مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ فَقَالُوا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حارث بن حسان بکری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ آئے اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہیں، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تلوار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں اور کئی کالے جھنڈے نظر آ رہے ہیں، میں نے پوچھا: یہ جھنڈے کیسے ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ غزوے سے واپس آئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4948
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عاصم بن ابي النجود لم يدرك الحارث بن حسان، أخرجه الترمذي:3273، وابن ماجه: 2816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16048»
حدیث نمبر: 4949
وَعَنْهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری روایت) سیدنا حارث رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور ایک کالے رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا، میں نے کہا: آج لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے کسی طرف بھیجنا چاہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4949
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16050»
حدیث نمبر: 4950
عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ قَالَ كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یونس بن عبید کہتے ہیں: محمد بن قاسم نے مجھے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کر سکوں کہ وہ کیسا تھا، انھوں نے کہا: وہ مربع شکل کا اور کالے رنگ کا دھاری دار تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جھنڈے کے بارے میں مزید روایات:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4950
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 4457، والنسائي: 6/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18830»