حدیث نمبر: 4875
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس نعمت کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اکرام ہے۔
حدیث نمبر: 4876
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ نَسَمَةٌ تَعْلُقُ فِي ثَمَرَةٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 4877
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ فَإِنِ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ ہند کے بارے میں درج ذیل حدیث صحیح ہے، جو مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ کا شاہد بن سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 4878
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شہادت کی خوشی اور جذبۂ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 4879
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ قَالَ أَبِي يَعْنِي الْعَرْفَ الرِّيحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … زخموں کا اس طرح تازہ ہونا اور خون بہانا، یہ دراصل شہید کی فضیلت ہو گی اور شہادت کی دلیل بھی ہو گی۔
حدیث نمبر: 4880
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4881
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجاہدین کی فضیلت و کرامت کو ثابت کرنے کے لیے ان کو اخوت کے ساتھ خاص کیا۔
حدیث نمبر: 4882
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ قَالَ لَا بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کے ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام قبول کروں یا قتال کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تو پہلے اسلام قبول کر اور پھر قتال کر۔ پس وہ مسلمان ہو گیا اور پھر لڑا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اجر دیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام کی چند گھڑیاں یا اس سے بھی کم زندگی پائی ہے، لیکن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کو اپنا مقدر بنا لیا، ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔
حدیث نمبر: 4883
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ قَالَ الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نُعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے چہروں کو اُن ہی کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں، یہ وہ لوگ جو جنت کے بلند بالا خانوں میں چلتے ہیں اور ان کا ربّ ان کی طرف ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میں ہی کسی کی طرف ہنس پڑتا ہے تو اس پر کوئی حساب نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … ہنسنا اللہ تعالیٰ کی بلاریب صفت ہے، وہ ہنستا ہے، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، ہمیں نہ کیفیت کا علم ہے اور نہ کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا مسئلہ ہماری عقل سے ما وراء ہے۔
حدیث نمبر: 4884
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ سِتَّ خِصَالٍ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لیے چھ خصلتیں ہیں: اس کو خون گرتے ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اسی وقت وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے، آہو چشم حور سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو عذابِ قبر سے پناہ دے دی جاتی ہے، وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتاہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جاتا ہے کہ اس کا ایک موتی دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے، بہتر آہو چشم حوروں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔} … وہ بڑی گھبراہٹ ان (نیکی والوں) کو غمگین نہیں کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔ (سورۂ انبیائ: ۱۰۳)
حدیث نمبر: 4885
عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قیس جذامی رضی اللہ عنہ ، یہ ایسے آدمی تھے جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہید کو چھ خصلتیں عطا کی جاتی ہیں: اس کے خون کے پہلے قطرے میں ہی اس کا ہر قسم کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، اس کو اس کا جنت میں سے ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، انتہائی سفید سیاہ رنگ والی سوتی آنکھوں والی عورتوں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو بڑی گھبراہٹ سے اور عذاب ِ قبر سے امن میں رکھا جاتا ہے اور اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 4886
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرٌ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ إِلَّا الْمَقْتُولُ وَقَالَ رَوْحٌ إِلَّا الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسا نفس نہیں ہے، جو وفات پائے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں خیر ہو اور وہ پھر بھی دنیا کی طرف لوٹنے کو پسند کرے، ما سوائے شہید فی سبیل اللہ کے، پس بیشک وہ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ واپس لوٹے اور اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صرف شہید کا اعزاز ہے کہ وہ اپنے انجام کو مزید بہتر بنانے کے لیے دوبارہ شہید ہونے ترجیح دے گا۔
حدیث نمبر: 4887
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى يَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَظَلَّتَا أَوْ أَضَلَّتَا فَصِيلَيْهِمَا بِبَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ بِيَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شہید کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تک زمین شہید کے خون سے خشک نہیں ہو پاتی کہ اس کی دو بیویاں اس کی طرف لپکتے ہوئے آتی ہیں، گویا کہ وہ دو دایاں ہیں، جوبے آب و گیاہ زمین میں اپنے بچے پر سایہ کر رہی ہوں یا غائب ہونے والے بچے کو پا لینے پر اس پر سایہ کر رہی ہوں، ان میں ہر ایک کے ہاتھ میں ایک پوشاک ہوتی ہے، اس کی قیمت دنیا وما فیہا سے زیادہ ہوتی ہے۔