حدیث نمبر: 4841
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ بِأَصَابِعِهِ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ فَجَمَعَهُنَّ وَقَالَ وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَوْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَمَنْ مَاتَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے راہِ خدا میں جہاد کرنے کے لیے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں یعنی درمیانی انگلی، شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے (اس کی جان، اسلحہ اور گھوڑے کی طرف) اشارہ کیا، اس آدمی نے کہا: اور مجاہدین کہاں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن وہ آدمی اپنی سواری سے گرا اور فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر ثابت ہو گیا، یا کسی جانور نے اس کو ڈس لیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا، یا وہ طبعی موت فوت ہو گیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر واقع ہو گیا۔ راوی کہتاہے: اللہ کی قسم! یہ ایسا کلمہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے میں نے کسی عرب سے نہیں سنا، اور جو مجاہد کسی ضرب کی وجہ سے فوت ہو گیا، اس نے اپنے لیے اچھی پناہ گاہ (یعنی جنت) واجب کر لی۔
حدیث نمبر: 4842
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں، (۱) جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے، امیر کی اطاعت کرتا ہے، عمدہ مال خرچ کرتا ہے، اپنے ساتھی پر آسانی کرتا ہے اور فساد سے گریز کرتا ہے، ایسے آدمی کا سونا اور جاگنا، غرضیکہ ہر چیز باعث ِ اجر ہے۔ (۲) جس نے فخر اور ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، وہ تو برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس سفر میں جتنی برائیاں کی ہیں، وہ اس کے اس سفر کی نیکیوں سے زائد ہیں۔
حدیث نمبر: 4843
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے راہِ خدا میں جہاد کیا، جبکہ اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول تھا تو اس کو وہی کچھ ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … عِقَال اس رسی کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4844
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتَ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ شُجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی بہادری کا اظہار کرنے کے لیے، ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاکاری کرنے کے لیے قتال کرتا ہے، ان میں راہِ خدا میں کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس مقصد کے لیے قتال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے کلمے سے مراد اس کا پیغام اور دین ہے، اگرچہ ہر نیک عمل میں اخلاص نیت کی حیثیت کلیدی ہے، لیکن یہ حدیث ِ مبارکہ مجاہد کے قصد کی سمت کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 4845
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ وَقَالُوا لِلرَّجُلِ عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا سوال سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی نے تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سب سے مشکل عمل اخلاص اور جہت ِ نیت کو درست رکھنا ہے، بالخصوص دورِ حاضر میں، کیونکہ اس دور میں جلد بازی، ظاہر پرستی، خوشامد، طلب ِ دنیا اور حرص جیسی قبیح خصلتیں پائی جاتی ہیں اور یہ ساری چیزیں اخلاص کے منافی ہیں۔
حدیث نمبر: 4846
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جماعت راہِ خدا میں قتال کرتی ہے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ آخرت میں ملنے والے اجر کا دو تہائی وصول کر لینے میں جلدی کر لیتی ہے، ایک تہائی اجر باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکیں تو ان کے لیے آخرت کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ کہ غنیمت حاصل کرنے والا کم اجر کا مستحق ہے، خواہ اس کی نیت غنیمت کی نہ ہو، پورا اجر اسی کو ملے گا جسے کچھ بھی دنیوی مفاد حاصل نہ ہوا ہو، البتہ جو شخص صرف غنیمت کے لیے جہاد کرے گا، وہ ثواب سے محروم رہے گا، غنیمت ملے یا نہ ملے، بلکہ عذاب کا مستحق ہو گا۔
حدیث نمبر: 4847
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّارِ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنْ بِهِ جِرَاحٌ شَدِيدٌ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کا دعوی کرنے والے ایک شخص کے بارے میں فرمایا: یہ جہنمی ہے۔ جب ہم نے لڑنا شروع کیا، تو اس شخص نے بڑی سخت لڑائی لڑی اور وہ زخمی بھی ہو گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، اس نے تو آج بڑی سخت لڑائی لڑی ہے اور اب تو وہ وفات پا چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آگ کی طرف گیا ہے۔ قریب تھا کہ اس فرمان کی وجہ سے بعض لوگ شک و شبہ میں پڑ جائیں، بہرحال لوگ اسی حالت میں تھے کہ کسی نے کہا: وہ آدمی ابھی تک مرا نہیں ہے، البتہ بڑا سخت زخمی ہو چکا ہے، جب رات ہوئی تو وہ شخص زخم پر صبر نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللَّہُ أَکْبَر، میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ بیشک صورتحال یہ ہے کہ صرف مسلمان جان جنت میں داخل ہو گی، اور اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صدق کے ظاہر ہو جانے اور لوگوںکے شک وشبہ کے دور ہو جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی اور اپنی رسالت کے حق میں گواہی دی۔
حدیث نمبر: 4848
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَأَبْلَى بَلَاءً حَسَنًا فَعَجِبَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ بَلَائِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قُلْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِهِ الْجِرَاحُ وَضَعَ ذُبَابَ سَيْفِهِ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ قَدْ رَأَيْتُهُ يَتَضَرَّبُ وَالسَّيْفُ بَيْنَ أَضْعَافِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَبْدُوَ لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک آدمی تھا، اس نے جنگ میں پوری بہادری کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو اس کی اس بہادری پر بڑا تعجب ہوا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: خبردار! بیشک وہ آگ والوں میں سے ہے۔ ہم نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ راہِ خدا میں ہے، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، وہ آدمی نکلا، جب اس کے زخموں میں زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنا سینہ تلوار کی دھار پر رکھا اور پھر اس کو اوپر سے دبایا، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: جس آدمی کے بارے میں آپ نے اس طرح فرمایا تھا، میں نے اس کو دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا تھا اور تلوار اس کی ہڈیوں میں پیوست تھی، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اہل جنت والے عمل کرتا رہتاہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کو ایسے معلوم ہوتا ہے، (کہ وہ جنتی ہے) جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی لوگوں کی نظروں کے مطابق جنہمیوں کے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، دراصل اعمال کا دارومدار خاتموں پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرنا چاہیے، یہ اس آدمی کی مثال ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے بخشش اور حسن انجام کا سوال کرتے ہیں، بیشک وہ معاف کرنے والا اور بہت مہربان ہے۔
حدیث نمبر: 4849
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَا فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي سَرِيَّةٍ وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ ثَقْلِي فَقُلْتُ لَهُ ارْحَلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قُلْتُ الْآنَ حَيْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ارْحَلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لَهُ مِنْ غَزَاتِهِ هَذِهِ وَمِنْ دُنْيَاهُ وَمِنْ آخِرَتِهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مختلف سریوں میں بھیجتے رہتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، ایک آدمی میرا سامان مرتّب کرنے اور اس کو اونٹ پر لادنے میں میری مدد کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تو بھی میرے ساتھ چل، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا ہے، اس نے کہا: میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ تو میرے لیے تین دیناروں کا تعین نہیں کر دے گا، میں نے کہا: میں نے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا تھا، اب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تو نہیں لوٹ سکتا، بہرحال تو ہمارے ساتھ چل اور تجھے تین دینار مل جائیں گے، پس جب میں اپنے غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس غزوے میں سے اور اس کی دنیا و آخرت میں سے نہیں ہے، مگر یہی تین دینار۔
حدیث نمبر: 4850
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْأَمْصَارُ وَسَيَضْرِبُونَ عَلَيْكُمْ بُعُوثًا يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ يَقُولُ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا وَكَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہروں کو تم پر فتح کیا جائے گا، پھر (جہاد کے لیے امراء کو) کئی لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن ایک آدمی اس لشکر میں جانے سے انکار کر دے گا، پھر وہ اپنے قوم سے نکل کر اپنے نفس کو دوسرے قبیلوں پر پیش کرے گا اور کہے گا: میں فلاں فلاں لشکر کے لیے کس کو کفایت کروں، خبردار! یہ شخص اپنے خون کا آخری قطرہ بہنے تک مزدور ہی رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب اسلام ہر طرف پھیلے گا اور خلیفہ کو مختلف جہات کی طرف لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی تو یہ آدمی نکلنے پر راضی نہیں ہو گا اور حیلے بہانے کر کے اپنی قوم سے نکل کر مختلف قبائل پر اپنے آپ کو پیش کرے گا، تاکہ وہ اس کو مناسب اجرت دیں، ایسے آدمی کا قتال دنیا کی خاطر ہو گا، نہ کہ سربلندیٔ دین کے لیے، ایسے آدمی کی حیثیت دنیوی مزدور کی ہے، نہ کہ غازی یا شہید کی۔
حدیث نمبر: 4851
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ النَّاقَةَ عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يُغْنَمُ حَتَّى إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّيشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ایسے ہوتا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی ملنے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لے لیتا تھا اور اس میں سے کسی کو تیر کی لکڑی ملتی، کسی کو پھلکا ملتا اور کسی کو پر۔
حدیث نمبر: 4852
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْغَازِي أَجْرُهُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کو تیار کرنے والے کو اپنا اجر بھی ملے گا اور غازی کا اجر بھی ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … مجاہد کو تیار کرنے والے کو دو اجر ملتے ہیں، تیار کرنے کا اجر اور جہاد کا سبب بننے کی وجہ سے مجاہد کا اجر۔ لیکن عملی طور پر جہاد کرنے والے کا اجر بے مثال ہے۔