حدیث نمبر: 4813
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، یہاں تک کہ وہ فوت جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اچھا کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلاؤں، جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر نماز قائم کرتا ہو اور زکاۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے دور ہو گیا ہو، اب کیا میں تم کو بتاؤں کہ بدترین مرتبہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے ، لیکن وہ پھر بھی نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … گھاٹی میں الگ تھلگ رہنا، عام حالات میں گوشہ نشینی اور مسلم معاشرے سے علیحدگی جائز نہیں، نماز باجماعت اور جمعہ فرض ہیں، بیماروں کی بیمار پرسی اور ضعیفوں کی مدد کرنا بھی مسلمانوں کے حقوق میں سے ہیں، یہ سب کچھ معاشرے کے اندر ہ کر ہی ممکن ہے، اکیلا شخص ان سب فرائض اور حقوق کا تارک ہو گا، وہ افضل کیسے ہو سکتا ہے؟ البتہ جب معاشرے میں رہ کر دین کے ضائع ہونے کا قوی امکان اور خطرہ موجود ہو تو گوشہ نشینی بہتر ہے، مگر موہوم خطرات کے پیش نظر جائز نہیں۔ دیکھیں کہ صحابۂ کرام نے انتہائی تکالیف برداشت کر کے بھی معاشرے کو نہیں چھوڑا بلکہ اصلاح کی کوشش کرتے رہے، نیز تبلیغ بھی تو ایک فریضہ ہے اور یہ معاشرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔
حدیث نمبر: 4814
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس دن تبوک میں لوگوں سے خطاب کیا تھا، اس میں یہ بھی فرمایا تھا: لوگوں میں اس آدمی کی مثل کوئی نہیں ہے، جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ کر اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو دیہات میں نعمتوں میں رہ رہا ہو، مہمان کی ضیافت کرتا ہو اور اپنا حق ادا کرتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جہاد بے مثال عبادت ہے، یہ ایک بھٹھی ہے، جس سے ایمان وایقان میں نکھار پیدا ہوتا ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جہاد کرنے کی صلاحیت پیدا کر کے رکھے۔
حدیث نمبر: 4815
مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ وَقَالَ رَوْحٌ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ رَوْحٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَأَغَزِّ وَرَوْحٌ كَأَغْزَرِ وَحَجَّاجٌ كَأَعَزِّ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ وَمَنْ جُرِحَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اونٹنی کے فَوَاق کے برابر جہاد کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، (فَوَاق سے مراد اتنا وقت ہے، جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوہنے والے کے لیے اتار دیتی ہے) اور جس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کیا اور پھر وہ طبعی موت مرا یا شہید ہوا، بہرحال اس کو شہید کا ہی اجر ملے گا، جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگا یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت والے دن اس طرح ہو گا کہ اس سے زیادہ خون بہنے والا ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور جس کو اللہ کی راہ میں زخم لگے گا، اس پر شہداء کی مہر ہو گی۔ اَغْزَر اور اَغَرّ کا ایک ہی معنی ہے، صرف راویوں کا اختلاف ہے۔
وضاحت:
فوائد: اونٹنی کا فَوَاق: یہ لفظ وقت کی ایک مقدار بیان کرتا ہے، اس کے یہ معانی ہیں: (۱)دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقت، (۲) دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت، (۳) جو ترجمہ میں بیان کیا گیا۔
حدیث نمبر: 4816
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ وَحَيِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ رَبُّنَا يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ وَمِنْ بَيْنِ حَيِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَانْهَزَمُوا فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْفِرَارِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَرَهْبَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ربّ کو دوآدمیوں پر تعجب ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست کھا گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہو اکہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ اقدام اس چیز کی رغبت کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میرے انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … تعجب کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جیسے اس کے شایانِ شان ہے۔
حدیث نمبر: 4817
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔
حدیث نمبر: 4818
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔
حدیث نمبر: 4819
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْمُوا أَهْلَ صُنْعٍ مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً قَالَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي النَّحَّامِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ وَلَكِنَّهَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ کسی کے منہ پر اس کی ماں کا ذکر کرنا عرفِ عام میںمعیوب سمجھا جاتا ہے، مگر شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً جب کہ متعلقہ شخص اسے محسوس نہ کرے۔
حدیث نمبر: 4820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَإِنْ قَبَضْتُهُ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ وَأَرْحَمَهُ وَأُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔
حدیث نمبر: 4821
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑا شرف تھا جو خیر القرون کی مقدس ہستیوں کو مل چکا، ان کے پاس اس مبارک عمل کی مقدار بھی بہت زیادہ تھی اور معیار بھی بہت اعلی تھا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی پر خلوص موقع عطا فرمائے۔ آمین۔
حدیث نمبر: 4822
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَةٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اونٹنی کے فَواق کی مقدار کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ تعالیٰ آگ کو اس کے چہرے کے لیے حرام کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۸۱۵) میں فَوَاق کا معنی واضح کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 4823
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے نعمت کدے کے لیے اسباب پیدا کر سکیں۔
حدیث نمبر: 4824
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے متن کے الفاظ یہ ہیں:
حدیث نمبر: 4825
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ قَالَ فَأَعْجَبَتْهُ يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ فَقَالَ لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیں کرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے، یہ تو آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، دیکھو صحابۂ کرام کے پاکیزہ گروہ کو، انھوں نے فقرو فاقہ کو ترجیح دی، اپنوں پرائیوں کا غضب مول لیا، لیکن اپنی مختصر زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سچی وفا کی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتوں کے وارث بن گئے۔
حدیث نمبر: 4826
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخِرَيْ امْرِئٍ أَبَدًا وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے، کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے راستے کاغبار اور جہنم کا دھواں ایک آدمی کے دو نتھنوں میں جمع نہیں ہو سکے گا۔ ابو عبد الرحمن راوی نے کہا: مسلمان کے دو نتھنوں میں۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ کا تھن میں واپس آنا ممکن نہیں ہے، عقلاً بھی اور عادتاً بھی، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے والے کا جہنم میں جانا ناممکن ہے، اسی طرح خلوص کے ساتھ جہاد کرنے والا بھی ہر گز جہنم میں نہیں جا سکتا۔
حدیث نمبر: 4827
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کافر کو قتل کیا اور پھر راہِ صواب پر چلتارہا، وہ آگ میں نہیں جائے گا۔
حدیث نمبر: 4828
عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّارِ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … قاتل سے مراد مجاہد ہے۔
حدیث نمبر: 4829
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوں کو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اَللّٰہُ اَکْبَرُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث ِ مبارکہ پر کیسا ایمان تھا کہ جان کی بھی پروا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4830
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ يَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
حدیث نمبر: 4831
عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ الْأَوْزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ بَيْنَا نَسِيرُ فِي دَرْبِ قَلَمْيَةَ إِذْ نَادَى الْأَمِيرُ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ رَجُلًا يَقُودُ فَرَسَهُ فِي عِرَاضِ الْجَبَلِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مصبّح اوزاعی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ملک ِ روم کے قلمیہ علاقے میں داخل ہونے والے کھلے راستے پر چل رہے تھے کہ مالک بن عبد اللہ خثعمی، جو کہ امیر تھے، نے ایک آدمی کو آواز دی، وہ پہاڑ کے دامن میں چل رہا تھا، اس امیر نے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا تو سوار نہیں ہوتا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں دن کے کچھ وقت میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
حدیث نمبر: 4832
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔
حدیث نمبر: 4833
حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَهْلِهِ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ قَالَ نَعَمْ سَبَقُونِي بِغَدْوَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ لوگ تجھ سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر اطاعت ِ رسول کی اہمیت بیان کرنے کے لیے یہ حدیث بیان کی جاتی ہے، لیکن یہ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 4834
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبْلِغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ فَقَالَ لَهَا أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ قَالَتْ مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طُوِّقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ میں ان کی نماز کی اقتدا کرتے ہوئے نماز پڑھتی تھی اور وہ جو نیک عمل کرتے تھے، میں بھی اس کو سرانجام دیتی تھی، اب آپ مجھے ایسا عمل بتائیں، جو مجھے ان کے عمل کے درجے تک پہنچا دے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ طاقت رکھتی ہے کہ قیام کرتی رہے اور وقفہ نہ کرے، روزے رکھتی رہے اور افطار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے اور اس میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے، یہاں تک کہ تیرا خاوند لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تجھے اس کی طاقت ہوتی بھی تو تب بھی تو اپنے خاوند کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچ پاتی، یہاں تک وہ لوٹ آئے۔
وضاحت:
فوائد: … میاں بیوی کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی اچھی خوبیوں کو اپنائیں۔
حدیث نمبر: 4835
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے والے اجر کو نہیں پا سکتا۔
حدیث نمبر: 4836
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَئِمْتُ الْخَيْلَ وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا قُلْتُ لَا قِتَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ يَرْفَعُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَرْزُقُهُمُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا ، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ سب سے زیادہ خیر و برکت والا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جہاد کی بنیاد رکھی اس کی فتوحات اور فوائد کی بڑی مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آئیں۔ اصل مرکز شام دیگر روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرب ِ قیامت شام کا علاقہ مومنین کے لیے فتح کا مقام ہو گا، ایک حدیث درج ذیل ہے، اس حدیث میں گویا اشارہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے فتنوں کے دور میں شام امن اور سلامتی کی جگہ ہو گی۔