کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حرام اور مکروہ نام
حدیث نمبر: 4777
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ قَالَ أَبِي سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے برا نام، جس پر روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں شرمندگی ہو گی، یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مَلِکُ الْاَمْلَاک (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلوائے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کو عجز وانکساری بہت پسند اور فخر و غرور اور تکبر سخت ناپسند ہے، بادشاہوں کا بادشاہ کہلانے میں عاجزی کے بجائے تکبر کا اظہار ہے۔ علاوہ ازیں یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اس سے دوسروں کو متصف کرنا کسی لحاظ سے مستحسن نہیں ہے۔ امام مبارکپویؒ نے کہا: امام حمیدی نے اَخْنَعُ کا معنی سب سے زیادہ ذلیل کیا ہے اور امام سفیان نے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ کا معنی شاہانِ شاہ بیان کر کے یہ تنبیہ کی ہے کہ حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ صرف لفظ مَلِکُ الْاَمْلَاکِ منع ہے، بلکہ جو لفظ ایسے معنوںپر مشتمل ہو گا، وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس حدیث کی روشنی میں اس کا استعمال مخلوق کے لیے منع ہو گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سخت وعید ہونے کی وجہ سے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ نام رکھنا حرام ہے اور اس لفظ پر قیاس کرتے ہوئے خَالِقُ الْخَلْق، اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن، سُلْطَانُ السَّلَاطِیْن اور اَمِیْرُ الْاُمَرَائِ نام رکھنا بھی ممنوع ہے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اسما، اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے مخلوق کو ان کے ساتھ موسوم نہیں کیا جا سکتا، جیسے رحمن، قُدُّوس، جَبّار۔ (تحفۃ الاحوذی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4777
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6206، ومسلم: 2143، وأبوداود!:4961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7325»
حدیث نمبر: 4778
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے مبغوض ترین اور خبیث ترین شخص وہ ہو گا، جو اپنے آپ کو مَلِکُ الأَمْلاک کہلواتا ہے، حالانکہ کوئی بادشاہ نہیں ہے، ما سوائے اللہ تعالیٰ کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8161»
حدیث نمبر: 4779
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٌ قَالَ جَابِرٌ لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ هَاهُنَا بَرَكَةُ فَيُقَالُ لَا وَيُقَالُ هَاهُنَا يَسَارٌ فَيُقَالُ لَا قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو ان ناموں سے منع کر دوں گا، برکت، یسار اور نافع۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس چیز کا مجھے علم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رافع نام کا ذکر کیا تھا یا نہیں، ان ناموں سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ برکت ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، اسی طرح جب پوچھا جاتا ہے کہ یسار ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ناموں سے منع کیے بغیر فوت ہو گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بعد میں اس ارادے کو ترک کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ناموں سے واقعی منع کر دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4779
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14661»
حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ قَالُوا لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چار کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں: لا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، تو جس کلمے سے مرضی شروع کر دے، اس سے کوئی نقص نہیں ہو گا، تو اپنے بچے کا نام افلح، نجیح، یسار اور رباح نہ رکھ، کیونکہ جب تو پوچھے گا کہ فلاں ہے، فلاں یہاں ہے تو اس کے موجود نہ ہونے کی صورت میں لوگ کہیں گے: نہیں۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار کلمات ہی ہیں، اس سے زیادہ مجھ سے بیان نہ کرنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20507»
حدیث نمبر: 4781
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَمِّيَ رَقِيقَكَ أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ أَفْلَحَ وَيَسَارًا وَنَافِعًا وَرَبَاحًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تو اپنے بچے کا نام ان چار ناموں میں سے رکھے، افلح، یسار، نافع اور رباح۔
وضاحت:
فوائد: … ان ناموں کے معانی یہ ہیں: رباح: نفع۔ افلح: فلاح پانے والا۔ یسار: خوشحالی۔ نجیح: کامیاب ہونے والا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4781
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20400»