کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَفِي رِوَايَةٍ يُخَالِطُنَا وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ وَفِي لَفْظٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنستے تھے، اس کا ایک منّا سا چڑیا کا بچہ تھا، وہ اس کے ساتھ کھیلتا تھا، ایک دن اس کا وہ بچہ مر گیا، جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور میرے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، غمزدہ نظر آ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا وہ چڑیا کا بچہ مر گیا ہے، جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو کنیت کے ساتھ پکارا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کا دل بہلانے کے لیے نُغَر کو نُغَیْر کہہ رہے ہیں، یہ حسن اخلاق کا خوبصورت انداز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5664، 5735، ومسلم: 4003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14117»
حدیث نمبر: 4772
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ قَالَ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذات العشیرہ میں ایک دوسرے کے رفیق تھے، پس ہم چند کھجور کے درختوں کے سائے میں مٹی پر لیٹے اور سو گئے، اللہ کی قسم! ہمیں نہیں جگایا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ٹانگ سے ہمیں حرکت دی، جبکہ ہم مٹی میں لت پت ہو چکے تھے، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو تراب! (مٹی والے)۔
وضاحت:
فوائد: … صحیحین کی حدیث میں ابوتراب کی کنیت کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»
حدیث نمبر: 4773
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی سبزی کے نام کے ساتھ میری کنیت رکھی، جس کو میں چنا کرتا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس سبزی کا نام حمزہ تھا، اس کو فارسی میں ترہ تیزک کہتے ہیں، کنیت ابو حمزہ رکھی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4773
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، أخرجه الترمذي: 3830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12665»
حدیث نمبر: 4774
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَيَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَتَقُولُ إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُهَيْبٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمزہ بن صہیب سے مروی ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی تھی اور وہ کہتے تھے کہ وہ عربوں میں سے ہیں اور وہ بڑی مقدار میں کھانا کھلاتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب! تجھے کیا ہو گیا ہے، تو نے ابو یحیی کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ تیری اولاد نہیں ہے اور تو کہتا ہے کہ تو عربوں میں سے ہے اور تو بڑی مقدار میں کھانا کھلاتا ہے، یہ تو مال میں اسراف ہے؟ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کنیت رکھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … مفصل حدیث مناقب ِ صحابہ میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4774
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه مختصرا بقصة التكني ابن ماجه: 3738 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24422»
حدیث نمبر: 4775
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَتَكَنِّي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیتیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام عبد اللہ کی کنیت رکھ لو، ایک روایت میں ہے: تم اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام پر کنیت رکھ لو۔ پس سیدہ کو وفات تک ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، جبکہ ان کی اولاد نہیں ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»
حدیث نمبر: 4776
عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ ابْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو جبیرہ بن ضحاک انصاری اپنے چچوں سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے ایک دو دو لقب تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ پکارتے تو ہم کہتے: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی اس لقب کو ناپسند کرتا ہے، پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ} … اور کسی کو برے لقب نہ دو (سورۂ حجرات: ۱۱)
وضاحت:
فوائد: … استہزا اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا، یہ برے القاب کی صورتیں ہیں، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، ادنی واعلی کی تمیز کیے بغیر وقار اور عزت و احترام ہر آدمی کا حق ہے اور وہ اس کو ملنا چاہیے، اگرچہ اشراف طبقے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ان شاء الله، أخرجه أبوداود: 4962، والترمذي: 3268 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23615»