کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
حدیث نمبر: 4760
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِّيرُ وَمُشَبِّرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام تو حسن ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام حسین ہے۔ جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ محسِّن ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان بچوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بچوں کے ناموں پر رکھے ہیں، ان کے نام یہ تھے: شَبَّر، شَبِّیْر اور مُشَبِّر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4760
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البزار: 742، وابن حبان: 6958 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 769»
حدیث نمبر: 4761
عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ اسْمُ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَزِيزًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خیثمہ بن عبد الرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: دورِ جاہلیت میں میرے باپ کا نام عزیز تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17748»
حدیث نمبر: 4762
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برّۃ تھا، گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام کو ناپسند کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام جویریہ رکھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برّہ کے پاس سے نکلے ہیں، … ۔ الحدیث
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۷۶۴)دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2334»
حدیث نمبر: 4763
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ قَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ کا نام تبدیل کرتے ہوئے فرمایا: تو جمیلہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عَاص اور عَاصِیَۃ کا لفظی معنی نافرمان ہے، عرب تکبراور بڑے پن کے اظہار کے لیے اس قسم کے اسماء کا انتخاب کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4763
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2139 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4682»
حدیث نمبر: 4764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ زینب کا نام برّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … بَرَّۃ کا معنی نیکی یا نیک وصالح ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام سے نہی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((لَا تُزَکُّوا اَنْفُسَکُم وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ۔)) … اپنے نفسوں کے پاک ہونے کا اظہار مت کرو، اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم میں نیکی والا کون ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9556»
حدیث نمبر: 4765
عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا حَرَامُ فَقَالَ يَا حَلَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جہینہ قبیلے کا ایک بندہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں آواز دیتے ہوئے سنا: اے حرام!، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حلال۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4765
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو اسحاق السبيعي لم يثبت سماعه من الرجل من جھينة، أخرجه الحاكم: 2/108، وابن ابي شيبة: 12/ 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15959»
حدیث نمبر: 4766
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُكَ قَالَ شَيْطَانُ بْنُ قُرْطٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مسلم بن عبد اللہ ازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ قرط ازدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان بن قرط، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو عبداللہ بن قرط ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4766
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19286»
حدیث نمبر: 4767
عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ عَنْ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْمُهُ زَحْمٌ فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ لیلی رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سے بیان کرتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ ان کا اصل نام زحم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … زَحْم کا معنی ازدحام اور بھیڑ لگائے ہوئے لوگ ہے، جبکہ بشیر کا معنی خوشخبری سنانے والے کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4767
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 830، والطبراني: 24/532 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22302»
حدیث نمبر: 4768
عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ جَدِّ سَعِيدٍ مَا اسْمُكَ قَالَ حَزْنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ فَقَالَ لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن مسیب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دادے سے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: حزن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تو سہل ہے۔ اس نے کہا: لیکن میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے، میں اس کو تبدیل نہیں کروں گا، ابن مسیب نے کہا: پس ہمیشہ ہمارے خاندان میں سختی اور اکھڑ مزاجی رہی۔
وضاحت:
فوائد: … حَزْن کا معنی سخت اور اکھڑ مزاج کا ہے اور جبکہ سَھْل کا معنی نرم اور آسان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4768
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )23673۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24073»
حدیث نمبر: 4769
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میرا نام عبد اللہ بن سلام نہیں تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبد اللہ بن سلام رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … طبرانی کی ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: جاہلیت میں میرا نام غیلان تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبد اللہ رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4769
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي عبد الله بن سلام، أخرجه ابن ماجه: 3734، والترمذي: 3256، 3803 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24190»
حدیث نمبر: 4770
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ مَا اسْمُكَ قَالَ شِهَابٌ فَقَالَ أَنْتَ هِشَامٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو کہا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میرا نام شہاب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہشام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شہاب کے معنی آگ کے شعلہ کے ہیں اور آگ کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4770
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 276، والبخاري في الادب المفرد : 825، والطبراني في الاوسط : 2408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24969»