حدیث نمبر: 4758
عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے بعد میرا بیٹا ہو تو میں اس کا نام بھی آپ والا رکھوں اور کنیت بھی آپ والی رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ٹھیک ہے۔ راوی کہتا ہے: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رخصت تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس رخصت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا تقاضا یہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4759
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام قرار دیا ہے، یا میری کنیت کو حرام اور نام کو حلال قرار دیا ہے۔