کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
حدیث نمبر: 4739
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنَيِ الْحَسَنِ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دونوں کانوں میں اذان دی۔
وضاحت:
فوائد: … نو مولود کے کان میں اذان دینا، اس اعتبار سے یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ قدیم و جدید زمانے میںجمہور امت نے اس پر عمل کیا ہے اور اہل علم نے اپنی کتب میں اس سے متعلقہ عنوان قائم کیے ہیں اور اس کو مستحبّ سمجھا ہے، جبکہ اس کے حق میں کوئی مضبوط حدیث نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4739
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله ، أخرجه أبوداود: 5105، الترمذي: 1514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24371»
حدیث نمبر: 4740
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ حَنَّكَهُ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَتِ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوغہ پہن رکھا تھا اور اپنے ایک اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تیرے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں لی، ان کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا، پھربچے کو اس طرح گڑتی دی کہ بچے نے منہ کھولااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ سے وہ مواد نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اس کو کھا کر اس کا ذائقہ لینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے انکار کر دیا ہے، ما سوائے کھجور کی محبت کے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12826»
حدیث نمبر: 4741
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں زبیر کے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گڑتی دی اور فرمایا: یہ عبد اللہ ہے اور تم ام عبد اللہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4741
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4970، وقولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
حدیث نمبر: 4742
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک بچہ پیدا ہوا، جب میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گڑتی دی۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام اس چیز کا اہتمام کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بچوں کو گڑتی دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود اور لعاب کی برکت تو بے مثال ہے، لیکن ہمیں بھی اس مقصد کے لیے نیک شخصیات کا انتخاب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4742
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5467، 6198، ومسلم: 2145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19799»