کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
حدیث نمبر: 4734
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ قَالَ لَا وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْفَاضِ وَكَانَ الْأَوْفَاضُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الصُّفَّةِ قَالَ أَبُو النَّضَرِ مِنَ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ يَعْنِي أَهْلَ الصُّفَّةِ أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ قَالَتْ فَلَمَّا وَلَدْتُ حُسَيْنًا فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو انھوں نے کہا: کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے خون بہا کر اس کا عقیقہ نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا سر مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی مسکینوں اور کمزوروں پر صدقہ کر دو۔ یہ کمزور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض محتاج افراد تھے، جو مسجد یا صفہ میں رہتے تھے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اس چاندی کو کمزوروں یعنی اہل صفہ اور مسکینوں پر خرچ کرو۔ سیدہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اسی طرح کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4734
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 235، والطبراني في الكبير : 917،والبيھقي: 8/ 304 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27725»
حدیث نمبر: 4735
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ لَا تَعُقِّي عَنْهُ وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تو ان کی ماں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف دو دنبوں کا عقیقہ کرنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طرف عقیقہ نہ کرو، بلکہ اس کے سر کو مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا اللہ کے راستے میں صدقہ کرو۔ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو سیدہ نے اسی طرح کیا۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت صحیح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4735
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول شَعْرِهِ فِضَّةً۔)) قَالَ فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ۔ اے فاطمه ! اس كے سر كو مونڈو اور اس كے بالوں كے برابر چاندي كا صدقه كرو۔ پس جب انھوں نے وزن كيا تو بالوں كا وزن درهم يا درهم كا كچھ حصه تھا۔ (ترمذي: 1519) يه سيدنا حسن رضي الله عنه كي ولادت كا واقعه هے۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27738»
حدیث نمبر: 4736
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور کو ذبح کیا جائے اوراس کا سر مونڈا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ساتویں دن سے پہلے بھی نام رکھا جا سکتا ہے، اگلے باب میںاس کے دلائل موجود ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4736
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2837، وابن ماجه: 3165، والترمذي: 1522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20401»
حدیث نمبر: 4737
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور اس کو خون آلودہ کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … امام مالک، امام شافعی اور امام احمد j نے عقیقہ کے گوشت کے بارے میں اس چیز کو مستحب سمجھا ہے کہ سارا گوشت پکا لیا جائے،پھر اس میں سے فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کیا جائے، ہمسائیوں کو بھی دیا جائے اور عقیقہ کرنے والے خود بھی کھائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4737
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20456»
حدیث نمبر: 4738
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مذکورہ بالا روایت کی طرح ہی ہے ، البتہ اس میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں ، جبکہ ہمام کی روایت میں وَیُدَمّٰی کے الفاظ ہیں ، اور قتادہ راوی اس خون کی یہ کیفیت بیا کرتے تھے : جب آدمی عقیقہ کے جانور کو ذبح کرے گا تو روئی کا ٹکڑا لے کر ذبیحہ کی رگوں کے سامنے رکھا جائے گا ، پھر اس کو بچے کی چوٹی پر رکھا جائے گا ، یہاں تک کے خون بہے گا اور اس کو دھو کر سر کو مونڈ دیا جائے گا ۔‘‘
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ ان احادیث میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں یا وَیُدَمّٰی کے، اول الذکر کا معنی نام رکھنا ہے اور مؤخر الذکر کا معنی سر کو خون آلود کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4738
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20457»