کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4715
عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حنش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن کسی بھی نیک کام کی وصیت کی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي الحسنائ، وشريكُ النخعي سييء الحفظ، أخرجه أبوداود: 2790، والترمذي: 1495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1286»
حدیث نمبر: 4716
عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَهُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ فِي حَدِيثِهِ ضَحَّى عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ وَاحِدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دو دنبوں کی قربانی کروں، پس میں چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں۔ محمد بن عبید محاربی نے اپنی حدیث میں کہا: انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور دوسری اپنی طرف سے، جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، پس میں اس کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4716
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1279»
حدیث نمبر: 4717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ النَّفْرِ وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ قَالُوا قَالَ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم قربانی والا دن ہے، اس کے بعد روانگی کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پانچ چھ اونٹ قریب کیے گئے، وہ اونٹ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے شروع کریں گے، پس جب ان کے پہلو گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی بات کی، میں اس کو نہ سمجھ سکا، پس میں نے اپنے قریب والے ایک آدمی سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، گوشت کا ٹ لے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس اجازت سے مراد جھپٹنا اور اچک لینانہیں ہے، ایسا کرنے سے تو چیز کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کمزور افراد محروم رہ جاتے ہیں اور بسا اوقات بعض افراد زخمی بھی ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ اسلامی تہذیب کا تقاضا بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4717
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، (4717) أخرجه أبوداود: 1765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19285»