کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4702
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے، کچھ مخصوص برتنوں سے اور تین دنوں سے زیادہ عرصہ تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ تم کو آخرت یاد دلاتی ہیں، اور میں نے تم کو کچھ برتنوں سے روکا تھا، پس اب تم ان میں پی سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو، اور میں نے تم کو تین ایام سے زائد تک قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا، پس اب جب تک مناسب سمجھو یہ گوشت روک سکتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حرمت کے وقت وقتی طور پر چار قسم کے برتنوں سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں اجازت دے دی تھی۔
حدیث نمبر: 4703
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین سے زیادہ دنوں تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ لوگوں نے مہمانوں کی ضیافت کرنی ہوتی ہے اور غیر موجود لوگوں کے کچھ گوشت محفوظ کر کے رکھنا ہوتا ہے، سو جب تک چاہو، اس گوشت کو روک سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 4704
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی میں سے کچھ گوشت کھائے۔
حدیث نمبر: 4705
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَقَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا الَّذِي نَهَيْتَ عَنْهُ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْهُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بدّو لوگوں کی ایک جماعت عید الاضحی کے موقع پر آئی، ان کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دنوں تک ذخیرہ کر سکتے ہو۔ جب اس کے بعد اگلا سال آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے اس طرح فائدہ اٹھا لیتے تھے کہ چربی محفوظ کر لیتے اور مشکیزے بنا لیتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: آپ نے جو پچھلے سال قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو بدّو لوگوں کے آ جانے کی وجہ سے منع کیا تھا، اب تم کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔
حدیث نمبر: 4706
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عباس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سے زائد دنوں تک قربانی کا گوشت حرام قرار دیا تھا؟ انھوں نے کہا: نہیں، دراصل بات یہ تھی کہ کم لوگ قربانی کیا کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا تاکہ قربانی کرنے والے نہ کرنے والوں کو گوشت کھلائیں، ہم نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم اپنی قربانیوں کا پنڈلی کا پتلا حصہ محفوظ کر لیتے اور پھر اس کو دس دس دنوں کے بعد کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 4707
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عباس بن ربیعہ کہتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم صرف ان دنوں میں دیا تھا، جن میں لوگ بھوک میں مبتلا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ غنی لوگ فقیروں کو کھلائیں، ہم خود پنڈلی کا پتلا حصہ محفوظ کر لیتے اور پندرہ دنوں کے بعد کھاتے تھے۔ میں نے کہا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا؟ تو وہ ہنس پڑیں اور انھوں کہا تھا: آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) لگاتار تین دن سالن والی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کو جا ملے۔
حدیث نمبر: 4708
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ امْرَأَتِهِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ فَقَالَ لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یزید بن ابی یزید انصاری اپنی بیوی سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی سفر سے ہمارے پاس واپس آئے، ہم نے ان کو قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: میں اس وقت تک یہ نہیں کھاؤں گا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ نہیں لوں گا، پھر جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس گوشت کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی قربانی کا گوشت پورا سال کھایا جا سکتا ہے، گوشت کو خشک کر کے کئی مہینوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4709
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام سلیمان کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع تو کیا تھا، لیکن بعد میں رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو اپنی قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ نے ان سے روکا تھا پھر ان کے متعلق رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 4710
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ قَالَ فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسِلْقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا فَقُلْتُ لَهَا أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ فَقَالَتْ مِنْ ضَحَايَانَا قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَوَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ فَقَدْ صَدَقَتْ قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو تین سے زائد دنوں تک قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پھر میں ایک سفر میں چلا گیا، جب اپنی بیوی کے پاس واپس آیا، ابھی تک عید الاضحی کو کچھ دن ہی گزرے تھے، تو میری بیوی نے چقندر پکا کر پیش کی اور اس میں گوشت کے پارچے تھے، میں نے کہا: یہ پارچے کہاں سے آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہماری قربانیوں کا گوشت ہے، میں نے کہا: وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تین سے زائد دنوں تک کھانے سے منع نہیں کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد لوگوں کو رخصت دے دی تھی، میں نے اپنی بیوی کی تصدیق نہ کی اور اپنے بھائی سیدنا قتادہ بن نعمان بدری رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرنے کے لیے ان کی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے جواباً یہ پیغام دیا کہ تم اپنا کھانا کھا لو، تمہاری بیوی سچ کہہ رہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز کی رخصت دے دی ہے۔
حدیث نمبر: 4711
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَانْبِذُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کر سکتے ہو اور میں نے تم کو تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت روکنے سے منع کیا تھا، اب تم ذخیرہ کر سکتے ہو، اسی طرح میں نے تم کو کچھ مخصوص برتنوں سے منع کیا تھا، اب تم ان میں نبیذ بنا سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیزسے بچو۔
حدیث نمبر: 4712
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ ثُمَّ قَالَ لِي يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! اس بکری کا گوشت سنبھال لو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ گوشت کھلاتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 4713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میں یہ حکم دیتا ہوں کہ کھاؤ، زادِ راہ کے طور پر لے جاؤ اور ذخیرہ کرو۔
حدیث نمبر: 4714
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قَالَ فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم صرف مِنٰی کے تین دنوں تک قربانی کا گوشت کھاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت دے دی اور فرمایا: کھاؤ اور زادِ راہ کے طور پر لے جاؤ۔ پس ہم نے کھایا اور زادِ راہ کے طور پر لے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ جب تک آدمی چاہے قربانی کا گوشت استعمال کر سکتا ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کی کچھ مقدار مستحق افراد کو دے دے۔