کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ذبح کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 4689
عَنْ زُبَيْدٍ أَخْبَرَنِي وَمَنْصُورٍ وَدَاوُدَ وَابْنِ عَوْنٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَهَذَا حَدِيثُ زُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَدَّثَنَا عِنْدَ سَارِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ وَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَوْضِعِهَا قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ قَالَ وَذَبَحَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَمْ تُجْزِئْ أَوْ تُوفِ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہم کو مسجد کے ستون کے پاس بیان کیا، اگر میں وہاں ہوتا تو تم کو اس جگہ کے بارے میں بتلاتا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: پہلا کام جو آج ہم اس دن کو کریں گے، وہ یہ ہے کہ پہلے ہم نمازِ عید پڑھیں گے، پھر گھروں کو لوٹ کر قربانی کریں گے، جس نے ایسے ہی کیا، اس نے ہماری سنت پر عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور کو ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہی ہے، جو اس نے اپنی بیوی بچوں کو کھلایا ہے، اس کا قربانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ وقت سے پہلے ذبح کر آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ذبح کر آیا ہوں،اب میرے پاس ایک جذعہ ہے، لیکن وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی قربانی کر لے، لیکن تیرے بعد وہ کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … نمازِ عید کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا جائے گا، وگرنہ وہ قربانی ضائع ہو جائے گی اور استطاعت ہونے کی صورت میں دوبارہ قربانی کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4689
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 955، 976، 5556، ومسلم: 1961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18673»
حدیث نمبر: 4690
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى قَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَلْيَذْبَحْ وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسود بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے نمازِ عید ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ادائیگیٔ نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا ہے، وہ اس کی جگہ پر کوئی اور قربانی کرے، اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4690
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 985، 5562، 6674، ومسلم: 1960، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19005»
حدیث نمبر: 4691
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَالَفَتْنِي امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَّتِي فَذَبَحَتْهَا وَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَنَّى هَذَا قَالَتْ أُضْحِيَّتُكَ ذَبَحْنَاهَا وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لِتَغَدَّى إِذَا جِئْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ بِشَيْءٍ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُكِنَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فَضَحِّ قَالَ فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَلَمْ أَجِدْهَا قَالَ فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ الْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا قَالَ فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ فَضَحِّ بِهِ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَضَحَّى بِهِ حِينَ لَمْ يَجِدِ الْمُسِنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عید ادا کرنے کے لیے گیا، جب میں نماز کے لیے نکلا تو میرے بعد میری بیوی نے میری قربانی کو ذبح کر دیا اور کھانا تیار کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور میں فارغ ہو کر گھر پہنچا تو میری بیوی کھانا لے کر آ گئی، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تیری قربانی ہے، ہم نے اس کو ذبح کر دیا تھا اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تاکہ جب آپ گھر آئیں تو کھانا تناول کریں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ ڈر لگ رہا ہے کہ یہ عمل جائز نہیں ہو گا، بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہے، جس نے ہماری اس نماز سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی کر دی تو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی،تم دوبارہ قربانی کرو۔ پس میں نے دو دانتا جانور تلاش کیا، لیکن وہ مجھے نہ مل سکا، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے دوندا جانور تلاش کیا ہے، لیکن وہ مجھے ملا نہیں ہے، اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ تلاش کر کے اس کی قربانی کر لے۔ راوی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو اس وقت بھیڑ نسل کے جذعے کی قربانی کرنے کی رخصت دی تھی، جب اسے دو دانتا نہیں ملا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4691
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ان صح سماع بشير بن يسار من ابي بردة، فقد قال ابن عبد البر: يقال: ان بشير بن يسار لم يسمع من ابي بردة، وانظر الحديث الآتي، فانه صحيح، لكن مختصرا منه، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 22/ 508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16604»
حدیث نمبر: 4692
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا عَجَّلْنَا شَاةَ لَحْمٍ لَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَبْلَ الصَّلَاةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ تُجْزِئُ عَنْهُ وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء اپنے ماموں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گوشت والی بکری جلدی ذبح کر دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا نماز سے پہلے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف گوشت کی بکری ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ہے، لیکن وہ مجھے دو دانتے جانور سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تجھ سے کفایت کرے گا، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4692
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16599»
حدیث نمبر: 4693
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو مدینہ منورہ میں قربانی والے دن نماز پڑھائی، اُدھر کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر دی، ان کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے قربانی کی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے اور لوگ اس وقت تک قربانی نہ کیا کریں، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کر لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4693
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 507 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16485) (4693) أخرجه مسلم: 1964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14176»
حدیث نمبر: 4694
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے سے پہلے بکری کا کھیرا بچہ ذبح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیرے بعد اس طرح کا عمل کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی کرنے سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4694
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 1779، وابن حبان: 5909 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14989»
حدیث نمبر: 4695
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن فرمایا: جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر دی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں گوشت کی خواہش کی جاتی ہے، پھر اس نے اپنے ہمسائیوں کی حاجت کا ذکر کیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے تھے، پھر اس نے کہا: اب میرے پاس ایک جذعہ جانور ہے، لیکن وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت دے دی۔ راوی کہتا ہے: اب مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ کیا یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دو دنبوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا، اُدھر لوگ بھی بکریوں کی طرف گئے، ان کو تقسیم کیا اور ان کی قربانی کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ جذعہ بکری کی نسل کا تھا، دوسری روایات سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 954، 5549، 5561، ومسلم: 1962 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12144»
حدیث نمبر: 4696
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ هَذَا يَوْمًا الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھروں کے پاس سے گزرے اور ہمارے ہاں ہنڈیوں کی ایسی بو محسوس کی، جیسے گوشت بھونا جا رہا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کس نے ذبح کر دیا ہے؟ ہمارا ایک آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے، جس میں عام کھانا پسند نہیں کیا جاتا، اس لیے میں نے قربانی کا جانور ذبح کر دیا ہے، تاکہ خود بھی کھاؤں اورہمسائیوں کو بھی کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ قربانی کر۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اب تو میرے پاس صرف بھیڑ نسل کا جذعہ ہے یا اس کا ایک سال سے کم عمر کا جانور ہے، اس نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو اس کو ہی ذبح کر دے، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4696
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: من الضأن أو حَمَل وھو خطأ وقع في الرواية، أخرجه ابن ماجه: 3154 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21014»
حدیث نمبر: 4697
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ثُمَّ يَذْبَحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میرے باپ نے نمازِ عید کی ادائیگی سے پہلے قربانی ذبح کر دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ سے کہہ کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ قربانی کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4697
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6596»
حدیث نمبر: 4698
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے (سلسلہ صحیحہ: ۲۴۷۶) میں اس حدیث کے طرق و شواہد پر عمدہ اور مفصل بحث کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث سیدنا جبیر بن مطعم، سیدنا ابو سعید خدری یا سیدناابوہریرہ اور ایک اور صحابی ٔ رسول سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4698
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 1126، وابن حبان: 3854، والبيھقي: 9/295 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16873»