کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
حدیث نمبر: 4684
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا موقع آگیا، پس ہم نے سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف اونٹ ذبح کیا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۶۱۹) میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 4685
عَنْ أَبِي عَقِيلٍ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ التَّيْمِيِّ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی ماں سیدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے بیعت لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے حق میں دعا کی، یہ صحابی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام اہل کی طرف سے ایک بکری قربان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4686
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مخنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عتیرہ کا ذکر اس کے مخصوص باب میں آ ئے گا۔
حدیث نمبر: 4687
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجَيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔
حدیث نمبر: 4688
عَنْ أَبِي الْأَشَدِّ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَذَبَحَهَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اب ظاہر پرستی اور نمودو نمائش کا دور ہے، کئی لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہیں، وہ مہنگے مہنگے اور ایک سے زائد جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، واضح طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان کا عمل رائیگاں جائے گا، لیکن یہ گزارش ضرور کی جائے گی کہ وہ اپنے عزم کو پاکیزہ کرنے پر توجہ دیں، یعنی وہ سوچیں کہ اس عمل سے ان کا کیا مقصد ہے، کیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قیمتی جانور پیش کرنا مقصود ہے، یا ان کے سرمائے کا تقاضا ہے، یا لوگوں سے مرعوبیت ہے، یا نمود ونمائش مقصود ہے، اس نقطے پر ان کو کافی غور کرنا پڑے گا، وگرنہ ان سے ایک الزامی سوال بھی کیا جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہے، حرام امور کا ارتکاب کرتے ہیں، لیکن قربانی کے مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کیسے یاد آ جاتی ہے؟ اس الزامی سوال کی وجہ یہ ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہے، اس کے شرعی قانون یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے محرمات سے بچ کر فرائض کی ادائیگی کرے اور پھر نوافل اور مستحبات کا اہتمام کرے۔