کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4662
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ بَشَرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ذوالحجہ کے پہلے دس دن شروع ہو جائیں تو قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والا آدمی نہ اپنے بالوں کو چھوئے اور نہ اپنے جسم کو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4662
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27007»
حدیث نمبر: 4663
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نہ اپنے ناخن تراشے اور نہ اپنے بال مونڈے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4663
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27106»
حدیث نمبر: 4664
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ذوالحجہ کے مہینے میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے۔
وضاحت:
فوائد: … قربانی کا ارادہ رکھنے والے کو ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جسم سے بال کٹوانے اور منڈوانے اور ناخن تراشنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قربانی کے لیے بڑے قیمتی جانور لے لیتے ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کو اپنے وجود پر لاگو نہیں کر سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4664
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27190»
حدیث نمبر: 4665
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … جو شخص قربانی کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرے، عید والے دن اپنے بال اور ناخن تراشے، اپنی مونچھیں کاٹے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرے، یہ اہتمام اس کے لیے قربانی کے قائم مقام ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4665
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2789، والنسائي: 7/212 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6575»