کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
حدیث نمبر: 4648
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ أَوْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا مَا لَنَا مِنْهَا قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصُّوفُ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انھوں نے کہا: ان میں سے ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے عوض ایک نیکی۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اون کا کیا مسئلہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4648
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابو داود نفيع بن الحارث الاعمي متروك، وعائذ الله المجاشعي ضعيف، أخرجه ابن ماجه: 3127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19498»
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِي رَمْلَةَ حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مخنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … زکوۃ اور نمازِ عیدین کی طرح قربانی کا حکم بھی ۲ہجری میں نازل ہوا، قربانی کی مشروعیت قرآن کریم، حدیث ِ رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} (اے پیغمبر!) آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ (سورۂ کوثر: ۲) عتیرہ کا بیان اس کے مستقل باب میں آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4649
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21011»
حدیث نمبر: 4650
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ زجر و توبیخ کا ایک اندازہ ہے، وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ نمازِ عید کی صحت قربانی پر موقوف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4650
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه، أخرجه ابن ماجه: 3123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8256»
حدیث نمبر: 4651
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر قربانی فرض کی گئی ہے اور تم پر فرض نہیں کی گئی، اسی طرح مجھے دو رکعت نمازِ چاشت کا حکم دیا گیا ہے اور تم کو ان کا حکم نہیں دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ} … اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ (سورۂ حج: ۳۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4651
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه الطبراني: 11803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2917»